پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو یہ جنگی اقدام کے مترادف ہوگا: وزیرخارجہ پاکستان

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ، اگر آئندہ مذاکرات میں پانی سے متعلق تنازع حل نہ ہوا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحٰق ڈار نے کہا کہ، اگر آبی تنازع حل نہ کیا گیا تو یہ اقدام ایک جنگی کارروائی کے مترادف سمجھا جائے گا۔
انہوں نے مسئلہ کشمیر کو پورے خطے میں عدم استحکام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ، اس تنازع کے مستقل حل کے لیے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ، حالیہ جھڑپوں اور کشیدگی کے باوجود پاکستان نے کبھی بھارت کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر غور نہیں کیا۔ ان کے مطابق، 7 مئی کو بھارت کی جانب سے حملے کے بعد پاکستان کے پاس دفاع میں جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
نائب وزیراعظم نے بھارت کے اقدامات کو ایک خیالی کوشش قرار دیا جس کے ذریعے نئی دہلی نے کشمیر میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ، پاکستان کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر غور نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ، بعض اوقات قیادت کو نہایت حساس اور سنگین فیصلے کرنے پڑتے ہیں، تاہم ہمیں اپنی روایتی جنگی صلاحیت پر مکمل اعتماد تھا اور ہم جانتے تھے کہ، فضا اور زمین دونوں محاذوں پر دشمن کو شکست دینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ، پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن پاکستان کو اب بھی امید ہے کہ، دانشمندی سے کام لیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ، غیر متوقع سیز فائر معاہدہ کیسے ممکن ہوا، تو اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ، ہر فریق کا مفاد اسی میں ہے کہ، حساس نوعیت کے معاملات کو طویل عرصے تک لٹکنے نہ دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، بھارت نے فضائی محاذ پر ہونے والے نقصان کو بخوبی دیکھ لیا ہے اور انہیں اس کا احساس ہو چکا ہے کہ، یہ نقصان کس حد تک شدید تھا۔
اسحٰق ڈار نے بتایا کہ، پاکستان اور بھارت کے حکام کے درمیان سیز فائر معاہدے سے پہلے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا، اس طرح بھارتی ڈی جی ایم او کے اس دعوے کی تردید ہوگئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ، مذاکرات کے دوران انہیں پاکستان سے پیغام ملا تھا۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ، درحقیقت، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کو یہ پیغام پہنچایا تھا کہ، بھارت جنگ بندی پر آمادہ ہے۔
اختتام پر اسحٰق ڈار نے امید ظاہر کی کہ، دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسا راستہ نکالا جائے گا جو نہ صرف پائیدار امن کو یقینی بنائے بلکہ دونوں فریقین کے لیے باوقار بھی ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں