بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان سے متعلق ایک پرانا واقعہ ایک بار پھر خبروں میں ہے، جس میں انہوں نے ممبئی انڈر ورلڈ کی دھمکیوں کے باوجود فلم یا شو کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق فلم ساز سنجے گپتا نے ایک حالیہ گفتگو میں بتایا کہ شاہ رخ خان نے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے کہا تھا کہ اگر انہیں گولی مارنی ہے تو مار دیں، لیکن وہ ان کے لیے کام نہیں کریں گے۔
سنجے گپتا نے بتایا کہ 1990 کی دہائی میں جب بالی ووڈ پر انڈر ورلڈ کا اثر نمایاں تھا، کئی فلمی شخصیات کو دھمکیاں اور مطالبات موصول ہوتے تھے۔ ان کے مطابق شاہ رخ خان نے ایک موقع پر واضح الفاظ میں کہا تھا کہ وہ کسی دباؤ میں فلم یا شو نہیں کریں گے۔ گپتا کے مطابق اسی رویے کی وجہ سے انڈر ورلڈ سے وابستہ لوگوں نے بھی شاہ رخ خان کے مؤقف کا احترام کیا۔
شاہ رخ خان خود بھی ماضی کے ایک انٹرویو میں اعتراف کر چکے ہیں کہ انہیں کئی مرتبہ جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کچھ لوگ فلموں میں کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے اور انکار کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکی دیتے تھے۔ ان واقعات کے بعد انہیں تقریباً تین سال تک سخت سکیورٹی اور پولیس تحفظ میں رہنا پڑا۔
فلم نقاد انوپما چوپڑا نے اپنی کتاب میں بھی شاہ رخ خان کے انڈر ورلڈ سے متعلق واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق 1997 میں فلم ڈپلیکیٹ کی شوٹنگ کے دوران شاہ رخ خان کو ممکنہ خطرے کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں ذاتی محافظ فراہم کیا گیا۔ کتاب میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ گینگسٹر ابو سالم نے شاہ رخ خان کو ایک مخصوص فلم میں کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا، مگر اداکار نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق شاہ رخ خان نے ابو سالم سے مبینہ گفتگو میں کہا تھا کہ جیسے وہ اسے یہ نہیں بتاتے کہ کس کو گولی مارنی ہے، اسی طرح انہیں بھی یہ نہ بتایا جائے کہ کون سی فلم کرنی ہے۔ اگرچہ اس وقت وہ خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار تھے، لیکن انہوں نے اپنے فیصلوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
فلم ساز کرن جوہر نے بھی اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ فلم کچھ کچھ ہوتا ہے کی ریلیز سے قبل جب انہیں انڈر ورلڈ سے دھمکیاں ملیں تو شاہ رخ خان نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں ممبئی کی فلمی صنعت میں انڈر ورلڈ کی مبینہ مالی مداخلت، فلمی فیصلوں پر دباؤ اور اداکاروں کو دھمکانے کے کئی واقعات سامنے آئے تھے، جس کے باعث یہ تعلق طویل عرصے تک بھارتی فلمی صنعت کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنا رہا۔