جنوبی افریقہ کی ونڈرورک غار سے ملنے والی قدیم جانوروں کی ہڈیوں کے تجزیے سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی انسان نما مخلوق تقریباً 17 لاکھ 90 ہزار سال پہلے آگ استعمال کر رہی تھی۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے پلوس ون میں شائع ہوئی ہے۔
یہ تحقیق جنوبی افریقہ کے ناردرن کیپ صوبے میں واقع ونڈرورک غار کے آثار پر کی گئی۔ اس میں اسپین کے نیشنل میوزیم آف نیچرل سائنسز اور کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو سمیت مختلف اداروں کے سائنسدان شامل تھے۔
محققین نے غار سے ملنے والی چھوٹے جانوروں کی ہڈیوں کا خاص طریقے سے جائزہ لیا۔ بعض ہڈیوں پر جلنے کے ایسے نشانات ملے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غار کے اندر ایک سے زیادہ مرتبہ آگ موجود رہی۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ ہڈیاں غار کے داخلی راستے سے کم از کم 30 میٹر اندر ملی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اتنی اندر تک قدرتی جنگل کی آگ پہنچنا مشکل ہے، اس لیے امکان ہے کہ قدیم انسان خود آگ کو غار کے اندر لاتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شواہد ممکنہ طور پر قدیم انسانوں کی ایک قسم ’ہومو اریکٹس‘ سے تعلق رکھتے ہیں، جو لاکھوں سال پہلے زمین پر آباد تھی۔ تاہم تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ وہ خود آگ پیدا کرنا جانتے تھے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ قدرتی آگ سے شعلہ حاصل کرکے اسے اپنے استعمال کے لیے محفوظ رکھتے تھے۔
آگ کا استعمال انسانی ارتقا میں ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے سردی، تاریکی اور جنگلی جانوروں سے بچاؤ میں مدد ملتی تھی۔ ونڈرورک غار کی یہ تحقیق انسان اور آگ کے تعلق کی تاریخ کو مزید پیچھے لے جاتی ہے، تاہم یہ کہنا ابھی درست نہیں کہ اس دور کے انسان باقاعدگی سے کھانا پکاتے تھے۔