یہ بات اظہر من الشمس ھے کہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں ھیلمٹ کے استعمال سے آپکی زندگی کو تحفظ ملے گا اور اس کے استعمال سے مہلک حادثات میں نمایاں کمی آئے گی ۔
واضح رہے کہ ہیلمٹ سر کو چوٹ سے بچاتا ہے جو تمام چوٹوں سے زیادہ مہلک ہوتی ہے ۔ ہاتھ پاؤں ٹوٹنے سے انسان کا وہ نقصان نہیں ہوتا جو سر کی مہلک چوٹ سے ہوتا ہے ۔ اول تو سر کی چوٹ والے کی زندگی بچنا ہی مشکل ہوتی ہے اور اگر اللہ جان بچا دے تب زندگی بھر کے لیے معذوری کہیں نہیں گئی ۔ٹریفک قوانین کی پابندی کرانے کے لیے یعنی ڈرائیونگ لائسنس اور ھیلمٹ کے حوالے سے بھی لاہور میں سخت ایکشن لینا شروع کر دیا گیا ھے ، جبکہ قبل ازیں لاھور میں ای چالان سسٹم رائج کر دیا گیا تھا۔ اس سسٹم سے کیمروں کی مدد سے ٹریفک سگنل توڑنے والوں کی نشاندہی ہوتی ہے اور انھیں گھر پر چالان کی سلپ موصول ہو جاتی ہے ۔ اس طریقے سے بھی لاہور میں ٹریفک میں بہتری آئی ہے۔
ٹریفک سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی ضروری ہے ۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے حادثات سے بچاو کےلئے اپنے پیغام میں کہا کہ کسی بھی قوم کے رویوں اور طرز عمل کی عکاسی وہاں کے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور نظم و ضبط سے ہوتی ہے۔ سڑکوں پر حادثات سے محفوظ رہنے کے لئے ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنے کے رویوں اور مائنڈ سیٹ کو بدلنا ازحد ضروری ہے ٹریفک رولز کی قانون شکنی اور لاپرواہی کی وجہ سے روزانہ 1 درجن سے زائد افراد حادثات کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں شہریوں کو دوران سفر حادثات سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری پنجاب پولیس ، ٹریفک انجینئرنگ کے ساتھ عوام کی بھی ہے پبلک سروس وہیکلز کو غلط چلانے ، اوور لوڈنگ قوانین پر عمل درآمد کروانا پنجاب پولیس کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے شہریوں کو پیغام دیا کہ پنجاب پولیس اور عوام مل کر ان بلاجواز اور غیر ضروری اموات کو کم کر کے لوگوں کو مستقل معذوری بچا سکتے ہیں ۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی ایگزیکٹو، پٹرولنگ یا ٹریفک میں ہو اگر کوئی پولیس والا بھی قانون توڑے تو اس کو بھی فوری طور پر چالان جاری کریں۔
اس حوالے سے وزیراعلی پنجاب ، آئی جی پنجاب ، کمشنر لاھورڈویژن اور سٹی ٹریفک پولیس آفیسر لاھور سے گذارش ھے کہ لاھور کی تمام سڑکوں پر اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ صرف بغیر ھیلمٹ پٹرول نہ ڈالنا ، پارکنگ اسٹینڈز پر موٹر سائیکل کا کھڑا نہ کرنے دینا سے کام نہیں چلے گا ۔ اس کے لیے ضروری ھے کہ ایک خصوصی سرکلر جاری کیا جائے جس کے ذریعے تمام کمپنیوں ، شادی ھال ، ریسٹورنٹس ، ھسپتال ، فیکٹریز ، سرکاری و نجی آفس اوراداروں کے تمام ملازمین کو پابند کیا جائے تاکہ وہ ھیلمٹ کے استعمال پر سختی سے عملدرآمد کریں ۔
18 سال سے کم عمر بچوں کے موٹرسائیکل کے استعمال پر سختی سے عملدرآمد کروائیں ۔ وب ویلنگ پر بھی پاپندی لگائی جائے ورنہ ڈپٹی کمشنر کے ذریعے دفعہ 144 کا نفاذ کریں ۔
موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ پہننا آخر کیوں ضروری ہے یا اس سے کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے ؟
ہیلمٹ پہننے سے آپ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں ہر قسم کے پیش آنے والے حادثات میں زندگی قدر حد تک محفوظ رہتی ہے۔
انسان زندگی کے لئے چہرہ اور سر بہت اہمیت رکھتاہے،سر پر چھوٹی سی چوٹ انسان کے موت کا باعث بن سکتی، اس لئے ہیلمٹ پہننے سے کسی بھی حادثے میں اپکا سر اور آنکھیں محفوظ رہتی ہیں۔
جیسا کہ آج کا نوجوان خوبصورت اور دلکش نظر آنے کا خواہش مند ہوتا ہے اس کے لئے طرح طرح کے اقدامات کرتا ہے ان کے لئے ہیلمٹ بہت فائدے مند ہے، کیونکہ ہیلمٹ پہننے سے دھول ، مٹی اور خصوصی طور دھوپ سے بچا جاسکتا ہے۔
ہیلمٹ پہننے سے نہ صرف آپ کا چہرہ محفوظ رہتا ہے بلکہ اپکی شناخت بھی چھپی رہتی ہے ۔
انسان کتنا ہی صحت مند کیوں نہ ہو لیکن کھلی فضاء میں سفر کرنا اسے تھکا دیتا ہے لیکن ہیلمٹ پہننے سے آپ کا چہرہ تازہ اور گرد الود سے پاک رہتا جس سے مسافر کو تھکاوٹ نہیں ہوتی ۔
ھیلمٹ کے استعمال کا سب سے زیادہ فائدہ ہمیں ہی ہے ۔ اس کے استعمال سے ھماری زندگی محفوظ ھو گی ۔