اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان اور شام کے ان علاقوں سے واپس نہیں جائے گی جن پر اس وقت اسرائیل کا قبضہ ہے، اگر چہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید کی جا رہی تھی۔
پیر کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم اپنے سکیورٹی زون میں ‘جتنی دیر ضروری ہوئی’ موجود رہے گی۔ اسرائیل اس وقت لبنان کے تقریباً 570 مربع کلومیٹر علاقے پر قابض ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع میں اب تک 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ امن معاہدے کی غیر مصدقہ تفصیلات کے مطابق لبنان میں جنگ بندی اور اسرائیلی فوجی انخلاء بھی اس کا حصہ ہے، جس پر 19 جون کو جنیوا میں دستخط متوقع ہیں۔ تاہم نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے اس معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، جنہوں نے پیر کو اس معاہدے کا اعلان کیا تھا، کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کی شق شامل ہے۔
اسرائیل اکتوبر 2023 سے حزب اللہ کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، جبکہ اکتوبر 2024 میں اس نے سرحد پار کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے لبنان پر زمینی حملہ بھی کیا۔ اس کے بعد اسرائیلی افواج دریائے لیتانی کے شمال تک کئی علاقوں پر قابض ہو گئیں، حالانکہ اسرائیل نے پہلے اسی دریا تک اپنے سکیورٹی زون کی حد مقرر کی تھی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے مسلسل چوکس رہے گا۔
اتوار کے روز اسرائیل نے بیروت کے مضافاتی علاقے پر حملہ کیا تھا جس میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کو ایران کی جانب سے جنگ بندی معاہدے سے متعلق حساس معاملات میں ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس حملے پر ناراض تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ پیش رفت جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان حالیہ ہفتوں میں اس معاہدے کے معاملے پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ اسرائیل کے بعض سیاسی حلقوں اور دائیں بازو کے رہنماؤں نے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ روکنے میں ناکام رہے۔
اسرائیل کے سخت گیر حلقوں کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے لبنان، شام اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور قبضے کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسرائیل اس وقت غزہ کے تقریباً 1 ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر بھی قابض ہے۔
پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ہر معاملے پر مکمل اتفاق نہیں ہوتا، تاہم وہ اسرائیل کے سلامتی مفادات کا ہر صورت دفاع کریں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا اور اسرائیل نے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی قیادت اور ان کے عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی واضح کیا تھا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور یہ موجودگی غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے۔