برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کرے گی۔ اس کے علاوہ آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ سروسز کے استعمال پر بھی نئی پابندیاں متعارف کرائی جائیں گی۔

پیر کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ بنانا اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔

کیئر سٹارمر نے کہا کہ ان کے نزدیک مکمل پابندی ہی درست راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے والدین اور بچوں کے درمیان ہونے والی گفتگو اور توقعات میں تبدیلی آئے گی اور بچوں کو زیادہ محفوظ، خوشحال اور متوازن زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔

مجوزہ پابندی کے تحت ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے قابلِ رسائی نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت ایسے آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے خلاف بھی کارروائی کرے گی جہاں بچوں کو اجنبی افراد سے رابطے کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حقیقی زندگی میں کوئی والدین اپنے بچے کو کسی نامعلوم بالغ شخص کے ساتھ تنہا نہیں چھوڑتے، اسی اصول کو آن لائن دنیا میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔

برطانیہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے قوانین سخت کرتا رہا ہے۔ حکومت پہلے ہی عمر کی تصدیق، الگورتھمز میں تبدیلی اور بچوں کے درمیان نامناسب تصاویر کے تبادلے کی روک تھام جیسے اقدامات متعارف کرا چکی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پیشِ نظر مزید سخت اقدامات ضروری ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں آسٹریلیا کے تجربات کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

برطانوی حکومت نے مجوزہ پابندیوں کے حوالے سے اساتذہ، والدین اور نوجوانوں سے مشاورت بھی کی۔ حکام کے مطابق 116 ہزار سے زائد افراد نے اس مشاورتی عمل میں حصہ لیا، جن میں سے 83 فیصد والدین نے کہا کہ سوشل میڈیا کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں، جبکہ 90 فیصد نے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کی حمایت کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں