اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کی بڑی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی کا منگل کو اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جبکہ مجوزہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات پر بھی بات چیت ہوئی۔
اجلاس پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے طلب کیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے وفد کے ساتھ شریک ہوئے، جس میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، سینیٹر شیری رحمٰن اور راجہ پرویز اشرف شامل تھے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وفاقی کابینہ کے کچھ ارکان اور اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کو صوبے کی تازہ صورتحال، انتظامی اقدامات اور دہشت گردی کے مسئلے پر بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اپنے صوبے کی سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے خواہش ظاہر کی کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی بغیر تاخیر کے تشکیل دی جائے۔ اس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت جلد اپنے نامزد ارکان کے نام اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو جمع کرائے گی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ ملاقات بھی کی، جس میں ملک کی مجموعی صورتحال پر بات ہوئی۔ وزیراعظم آفس کے ایک ذریعے نے اس ملاقات کی تصدیق کی۔ ملاقات سے باخبر ایک اور ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ کافی عرصے سے طے ہونے والی ملاقات تھی، جس میں تمام صوبوں کی صورتحال زیر بحث آئی۔