گوگل نے اپنے سرچ انجن میں ایک تجرباتی اے آئی موڈ فیچر متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد چیٹ جی پی ٹی جیسے مقبول سروسز کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ اس نئے فیچر کا مقصد صارفین کے پیچیدہ سوالات کے جوابات فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ کسی بھی موضوع کی گہرائی میں جاکر معلومات حاصل کر سکیں۔
فروری 2025 میں اس فیچر کی آزمائش کی رپورٹس سامنے آئی تھیں، جس میں کہا گیا تھا کہ گوگل سرچ میں اے آئی موڈ کی اندرونی طور پر آزمائش ہو رہی ہے۔ اب گوگل نے باضابطہ طور پر اس فیچر کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
گوگل کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ یہ فیچر صارفین کو ایسے سوالات کے جوابات دینے میں مدد فراہم کرے گا جن کے لیے مزید تفصیل اور موازنہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین سرچ کے اندر موضوعات کی گہرائی میں جا کر معلومات حاصل کر سکیں گے۔
اے آئی موڈ کو ابتدا میں گوگل کے ون اے آئی پریمیئم سبسکرائبرز کے لیے متعارف کرایا جائے گا، اور اس میں جیمنائی 2.0 کے کاسٹیوم ورژن کو استعمال کیا گیا ہے۔ گوگل نے اس بات کا ذکر کیا کہ ماضی میں جب صارفین کو تفصیلی موازنہ یا تجزیہ کی ضرورت ہوتی تھی تو انہیں بار بار سرچ کرنا پڑتا تھا، لیکن اب یہ عمل بہت آسان ہو جائے گا۔
اس فیچر کی مدد سے آپ نہ صرف ویب مواد تک رسائی حاصل کر سکیں گے بلکہ رئیل ٹائم سورسز جیسے نالج گراف کا بھی جائزہ لے سکیں گے۔ گوگل عہدیداران نے اس فیچر کی تیاری کے بارے میں کہا کہ آزمائشی مراحل میں یہ دیکھنے کو ملا تھا کہ روایتی سرچ میں صارفین کو اپنے سوالات کے جوابات کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے، خاص طور پر ان سوالات کے بارے میں جن کے لیے مزید وضاحت یا سوالات کی ضرورت ہوتی ہے۔ گوگل کے مطابق، اے آئی موڈ صارفین کی اس مشکل کو حل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ وہ ایک ہی سرچ میں گہرائی سے جواب حاصل کر سکیں۔