ادرک والی بلیک ٹی جگر کی چربی سے نجات دلاتی ہے: نئی تحقیق

فیٹی لیور کی بیماری جگر میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے جو حال ہی میں عالمی سطح پر صحت کے لیے بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکی ہے۔

تاہم ایک نئی تحقیق نے کہا ہے کہ فیٹی لیور موٹاپے، غذائی قلت اور طرز زندگی کے انتخاب سے منسلک ہے۔ تحقیق میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس حوالے سے قدرتی علاجوں نے مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس میں خاص طور پر ’’ادرک کی کالی چائے‘‘ نے اپنے ممکنہ صحت کے فوائد کی وجہ سے بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس سے جگر کی صحت میں بھی بہتری آئی ہے۔

کچھ لوگوں کو میٹابولک مسائل کی وجہ سے نان الکحلک فیٹی لیور کی بیماری ہوتی ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ فیٹی لیور زیادہ سنگین حالتوں جیسے سروسس یا جگر کے کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فیٹی لیور کی بیماری کی بنیادی وجہ جگر کے خلیوں میں ٹرائی گلیسرائیڈز کا جمع ہونا ہے۔ یہ جمع ہونا جگر کے افعال کو کمزور کر سکتا ہے اور سوزش کو بڑھا سکتا ہے۔ تاہم طرز زندگی میں تبدیلیوں اور خوراک اور ورزش کے ذریعے جگر کی چربی سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

اگرچہ ادرک کی چائے فیٹی لیور کے لیے کوئی جادوئی علاج نہیں ہے لیکن اسے جگر کے صحت مند غذا میں ایک مفید اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس مرکب کو باقاعدگی سے پینے سے درج ذیل چیزوں میں مدد ملتی ہے۔

سوزش کم کرنا
ادرک اور بلیک قہرہ دونوں میں سوزش سے بچنے والی خصوصیات ہوتی ہیں جو جگر کی سوزش کو کم کرتی ہیں۔

میٹابولزم کو بڑھانا
کیفین چربی جلانے کو تیز کرتی ہے اور ادرک ہاضمے کو بہتر بناتا ہے۔ دونوں چربی کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

جگر کو زہریلے مادوں سے پاک کرنا
دونوں اجزاء میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جگر کو نقصان دہ مادوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے زہریلے مادوں سے پاک کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
ادرک ایک طاقتور قدرتی جڑ ہے جو اپنی سوزش سے بچنے والی، اینٹی آکسیڈینٹ اور ہاضمے کے فوائد کے لیے مشہور ہے۔ اس میں فعال مرکبات جیسے گنگیرول اور شوگول ہوتے ہیں جو آکسیڈیٹیو تناؤ کو کم کرنے اور چربی کے میٹابولزم کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں۔

تیاری کے طریقہ
ایک کپ بلیک چائے میں آدھا چائے کا چمچ تازہ کسا ہوا ادرک یا ادرک کا پاؤڈر ڈالیں۔ اچھی طرح ہلائیں اور ایک منٹ کے لیے بھگو دیں۔ مزید صحت کے فوائد کے لیے ایک چٹکی دار چینی بھی شامل کی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں