‘غزہ کی پٹی’ فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے، برکس ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

برکس ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے غزہ کی پٹی کو ‘مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا ایک اٹوٹ حصہ’ قرار دیا ہے اور مغربی کنارے کے ساتھ غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اتوار کو جاری اس اعلامیے میں برکس اتحاد ، جس میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، اور حالیہ شامل ہونے والے نئے رکن ممالک شامل ہیں ، نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

برکس ممالک نے اسرائیلی فوجی حملوں اور انسانی امداد کی غزہ تک رسائی کو روکنے پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے فاقہ کشی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔ اعلامیے میں تمام فریقوں پر زور دیا گیا ہے کہ، وہ فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کے حصول کے لیے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوں۔

بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ، غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں فلسطینی عوام کا مرکزی کردار ہونا چاہیے، اور ایسی تمام پالیسیوں کی مخالفت کی گئی ہے جو جبری نقل مکانی کا باعث بن سکتی ہیں۔

اعلامیے میں برکس اتحاد نے ایران کے خلاف 13 جون 2025 سے شروع ہونے والے فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ، ان حملوں نے مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے، جس پر برکس ممالک کو گہری تشویش لاحق ہے۔
یہ اعلامیہ ایسے وقت پر جاری کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور غزہ میں انسانی بحران عالمی سطح پر شدید توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں