ورلڈکپ میں نجی سرمایہ کاری کے ناکام منصوبے پر معذرت کے باوجود فٹبال تنظیموں کی فیفا صدر پر شدید تنقید

عالمی فٹبال تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کو ورلڈ کپ سمیت دیگر مقابلوں میں نجی سرمایہ کاری لانے کے ناکام منصوبے پر ایک بار پھر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یوفا، اے ایف سی اور کونکاکاف نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ فٹبال کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں ہے۔

تینوں کنفیڈریشنز نے انفینٹینو کے منصوبے اور اس سے متعلق فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے اس معاملے کی مکمل آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ فٹبال کی قیادت کسی فرد کی ذاتی ملکیت یا طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اگر اعتماد کو دھوکے سے نقصان پہنچایا جائے اور کوئی فرد خود کو اجتماعی ادارے سے بالاتر سمجھے، تو اس کا مطلب وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا۔

یوفا، ایشین فٹبال کنفیڈریشن اور شمالی و وسطی امریکا کی کونکاکاف نے گزشتہ ہفتے مراکش میں ہونے والے فیفا کے ہنگامی اجلاس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اجلاس میں صرف ایک منتخب عہدیدار موجود تھا۔

تینوں تنظیموں نے مطالبہ کیا ہےکہ اس بات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں کہ ورلڈ کپ میں حصص فروخت کرنے کی تجویز کس طرح سامنے آئی اور فیصلہ سازی میں اتنی بڑی غلطی کیوں ہوئی۔ ان کے مطابق اس جائزے میں فیفا کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس نے بھی انفینٹینو سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیفا نے اس سے قبل اپنے 211 رکن ممالک سے منصوبے میں ہونے والی غلطیوں پر معذرت کی تھی۔

دوسری جانب افریقی فٹبال کنفیڈریشن، میکسیکو، ارجنٹائن، پیراگوئے، ایکواڈور اور بولیویا سمیت کئی ممالک نے انفینٹینو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فیفا کی 211 رکن ایسوسی ایشنز میں سے تقریباً 70 نے عوامی طور پر انفینٹینو کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جبکہ تقریباً ایک درجن نے پہلے دی گئی حمایت واپس لے لی یا کہا ہے کہ وہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔

فیفا نے اپنے صدر کے خلاف تنقید کو منظم مہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قیادت کو چیلنج کرنے کا کوئی بھی عمل فیفا کے آئین اور جمہوری طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں