سرما کی پہلی بارش

بالآخر بارش ہوئی،سرما کی پہلی بارش، رحمت برس کے بٹ گئی، دھند اب چھٹ جائیگی ، فضا شفاف ہوئی، گرد اور بیماریوں کی سر درد بیٹھ گئی۔ مکدر فضا نری وبا ہے اور بارش اس کے لئے آب حیات۔ زمانہ کتنی ترقی کر گیا مگر قرآن کی سادہ سی بات آج پہلے سے بھی زیادہ موثر ہو چکی ہے۔ یعنی بارشوں کی اہمیت اور نزول کے بارے میں قرآن میں کی گئی بات۔ بارش صرف پانی ہی تو نہیں۔ یہ ایک خاص طرح سے برستا اور بہت کچھ بتاتا سمجھاتا پانی ہے۔ ویسے تو بارش بجائے خود ایک ایسا سائنسی سائیکل ہے بہت توجہ سے دیکھنے سمجھنے کا عجوبہ ہے، جو ایک بڑے طاقتور ، خلاق اور مہربان رب کی قدرت کاملہ بتانے کو اکیلا ہی کافی ہے۔

آپ سمندر پر غور کیجیے ، اگر اس کا پانی کڑوا اور نمکین نہ ہوتا تو بھلا اس میں مخلوق یوں زندہ رہ پاتی؟ جتنا کچھ اس میں بہہ کے آ جاتا ہے۔ جتنی مخلوق اس میں مر جاتی ہے۔ یہ سمندر کا پانی میٹھا ہوتا تو زمین متعفن ہوجاتی اور یہاں زمیں پر سانس لینا دشوار ہو جاتا۔ چنانچہ اسے نمکین اور حسب حال بنایا گیا۔ اب سمندر کا پانی نمکین مگر اس سے اٹھ کے برسنے والا بارش کا پانی میٹھا کیسے اور بھلا کیوں؟ سوچئے اگر یہی نمکین پانی ہم پر برس جاتا، پودوں پر برس جاتا، ہماری لوہے کی بنی اور دوسری چیزوں پر برس جاتا تو کیسے سب برباد ہوکے رہ جاتا؟ زنگ لگتا اور یہ نمک ہماری قیمتی چیزیں کھا جاتا۔

چنانچہ اسے میٹھا اور پاکیزہ پانی بنانے کیلئے مہربان رب نے اپنی قدرت کاملہ اور شفقت کا ایک اور رنگ دکھایا۔ سورج کی تپش سے پانی ہلکے بخارات کی صورت یوں اٹھایا کہ یہی کھارا ، نمکین ، کڑوا اور ناقابل استعمال پانی لطیف، پاکیزہ اور تروتازہ بن گیا۔ پھر یہی پانی اگر ٹینکروں کی صورت کہیں پہنچانا ہوتا تو سوچئے انسانوں پر کیا نہ بیت جاتی؟ سمندر کنارے بیٹھی حکومت کراچی کے گھروں تک پانی نہیں پہنچا سکتی مگر اللہ نے قریہ قریہ،بستی بستی اور جنگل جنگل کتنے ٹنوں لٹر یا کتنے کیوسک پانی پہنچا ڈالا، کوہ ہمالیہ کی چوٹی تک، صحراؤں میں اور جانے کہاں کہاں پانی پہنچا دیا اور پھر جگہ جگہ اس پانی سے سبزہ و پھل پات اگایا اور مردہ زمیں کو زندگی بخش ڈالی، مردہ زمیں زندہ کر دکھائی، بنجر ویرانوں کو بہار سے گلزار کر دکھایا۔ اچھا یہی پانی اگر مشکیزے سے بہہ نکلنے والے پانی کی طرح یکایک برس پڑتا تو کیا اس کی زد میں آنے والی چیزیں سلامت رہ پاتیں؟ اگر یوں ہوتا تو یہی پانی گویا آسمان سے عذاب بن کے زمیں پر ٹوٹ پڑتا۔ یہ پانی اس سے زیادہ تباہی لاتا جو کسی اژدہے کی طرح پھنکارتا سیلاب لایا کرتا ہے، مگر یہ ہمارا رب ہے جس نے بارش کے پانی کو قطرہ قطرہ یوں برسایا کہ جلترنگ سے بج اٹھے۔ یہ ہمارا مہربان مولا ہے، جس نے بارش کی آواز کو رومانویت سے بھر دیا۔

انسان کتنے نادان اور نکمے ہیں، ان بارشوں کو یا تو اللہ کے غیر کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، ستاروں کی تاثیر سے برسنے والی بارش کہہ دیتے ہیں یا پھر محض سائنس کی طرف دھکیل ڈالتے ہیں۔ کیسے ناداں ہیں، اسباب کو دیکھتے ہیں، پیچھے موجود مسبب الاسباب کو نہیں دیکھ پاتے۔ بہرحال انسان ایسے ہی ہیں ناشکرے اور نا سمجھ ۔۔ اور ہمارا پیارا پروردگار بھی ایسا ہی ہے، مہربان اور بڑی قدرتوں اور حکمتوں والا۔

بہرحال ،آپ بارش انجوائے کیجیے۔سرما کی پہلی بارش۔ اور ہاں جب جب بارش برسے تو یہ بھی یاد رکھیے گا کہ یہ من میں پلتی خواہشات پوری ہونے کا سماں بھی ہوتا ہے۔ قبولیت دعا کا وقت ،برستی بارشوں میں اللہ کی قدرت پر غور کرتے ہوئے کچھ اچھا اچھا رب سے مانگنا بھی مت بھولا کیجئے۔ اللہ کرے ہماری دنیا و آخرت کی بہتری اور کامرانی کی ساری دعائیں قبول ہوں

Author

اپنا تبصرہ لکھیں