یورپی یونین اور وسط ایشیا: نئی شراکت داری کی طرف ایک اہم قدم

3 اور 4 اپریل 2025 کو ہونے والا پہلا EU-وسط ایشیا سربراہی اجلاس اہم سنگ میل ثابت ہوگا

دنیا ایک کثیر قطبی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں علاقائی طاقتیں اپنی حیثیت مضبوط کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ ایسے میں یورپی یونین (EU) اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی قربت نہ صرف جغرافیائی سیاست کا حصہ ہے بلکہ اس سے اس خطے کی اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ازبکستان میں 3-4 اپریل 2025 کو ہونے والا پہلا EU-وسط ایشیا سربراہی اجلاس اسی بدلتی ہوئی دنیا کا ایک اہم مظہر ہے۔
یہ اجلاس ازبکستان کے صدر شوکت مرضایئو کی قیادت میں منعقد ہوگا، اور اس میں یورپی یونین کی جانب سے خطے میں باہمی تعاون کے متعدد شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ان میں نقل و حمل اور ڈیجیٹل روابط، قیمتی خام مال، اقتصادی و سیکیورٹی تعاون، اور توانائی کے متبادل ذرائع کی ترقی شامل ہیں۔
وسط ایشیائی ریاستیں، جو 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد آزاد ہوئیں، اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے نئے شراکت دار تلاش کر رہی ہیں۔ تاریخی طور پر، یہ خطہ روس اور چین کے اثر و رسوخ میں رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں یورپی یونین نے بھی اس خطے میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے کی کوششیں کی ہیں۔
وسط ایشیا کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی جغرافیائی بندش (Landlockedness) ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی تجارتی راستوں سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ تاہم، یورپی یونین کے ساتھ بہتر تعلقات اس خطے کے لیے نئی تجارتی راہیں کھول سکتے ہیں، خاص طور پر جب یورپ وسط ایشیا میں توانائی کے وسائل تک براہ راست رسائی حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا یہ بیان کہ “ہم ایک ایسے دنیا میں جی رہے ہیں جہاں عدم استحکام اور تقسیم عام ہو چکی ہے، اور یورپی یونین کے لیے واحد مؤثر حل مضبوط شراکت داریوں کی تعمیر ہے تاکہ امن و خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔” اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپی یونین وسط ایشیا کو نہ صرف اقتصادی طور پر بلکہ جیوپولیٹیکل طور پر بھی اہمیت دے رہا ہے۔
یہ اجلاس درحقیقت 2019 میں یورپی یونین کی جانب سے اختیار کی گئی نئی وسط ایشیائی حکمت عملی کی عملی شکل ہے، جس کے تحت یورپ خطے میں سیاسی و اقتصادی استحکام اور ترقی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ یورپی یونین اس وقت وسط ایشیا میں دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور خطے میں 40 فیصد سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاری فراہم کر رہا ہے۔
وسط ایشیا تاریخی طور پر روسی اثر و رسوخ میں رہا ہے، اور حالیہ برسوں میں چین نے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” (BRI) کے ذریعے اس خطے میں اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔ یورپی یونین کی اس خطے میں دلچسپی، ان دونوں طاقتوں کے لیے ایک سفارتی چیلنج ہو سکتی ہے۔
خاص طور پر، اگر یورپی یونین وسط ایشیا کے قدرتی وسائل، خاص طور پر تیل، گیس اور قیمتی دھاتوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو یہ روسی اور چینی مفادات کے خلاف جا سکتا ہے۔ یورپ، روسی توانائی پر اپنے انحصار کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور وسط ایشیائی ممالک کو ایک ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ازبکستان، جو وسط ایشیا میں ایک جغرافیائی اور اقتصادی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، اس اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ صدر شوکت مرضایئو کی قیادت میں ازبکستان ایک متحرک خارجہ پالیسی اپنا رہا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنا ہے۔
یہ اجلاس ازبکستان کے لیے ایک موقع فراہم کرے گا کہ وہ خود کو ایک اہم علاقائی کھلاڑی کے طور پر پیش کرے، جو نہ صرف یورپی یونین بلکہ چین، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات میں توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
یورپی یونین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے فوائد اپنی جگہ، لیکن اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ آیا وسط ایشیائی ممالک اس موقع سے مکمل فائدہ اٹھا سکیں گے؟دراصل وسط ایشیا کو اپنی معیشت کو مزید شفاف اور مسابقتی بنانا ہوگا تاکہ یورپی سرمایہ کاری سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے۔اسی طرح افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال اور خطے میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات یورپی سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔وسط ایشیا میں کئی ممالک میں جمہوری اصلاحات کی سست روی بھی یورپ کے ساتھ تعلقات کو محدود کر سکتی ہے۔
بلاشبہ ازبکستان میں ہونے والا یہ تاریخی اجلاس وسط ایشیا اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یورپی یونین اور وسط ایشیائی ممالک باہمی تعاون کے نکات پر موثر عمل درآمد کرتے ہیں، تو یہ خطہ عالمی سیاست اور معیشت میں ایک زیادہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
وسط ایشیائی ممالک کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ صرف روس اور چین پر انحصار کرنے کے بجائے یورپی یونین کے ساتھ متوازن شراکت داری قائم کریں، جو نہ صرف ان کی اقتصادی ترقی بلکہ خطے کے استحکام اور خودمختاری کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں