کینیا میں سائانائیڈ سے آلودہ ٹماٹر کھانے کے بعد 15 ہاتھی ہلاک

کینیا کے جنوبی علاقے میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہلاک ہونے والے 15 ہاتھیوں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انہوں نے سائانائیڈ سے آلودہ ٹماٹر کھائے تھے۔

جنگلی حیات کے حکام نے بدھ کو مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ ٹماٹر ایمبوسیلی نیشنل پارک کے قریب واقع کھیتوں سے آئے تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حکام نے یہ نہیں بتایا کہ ٹماٹروں کو آلودہ کرنے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ تاہم ماضی میں بعض کسانوں پر یہ شبہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ہاتھیوں کو فصلیں کھانے سے روکنے کے لیے انہیں جان بوجھ کر زہر دیتے ہیں۔

جنوبی کینیا میں واقع ایمبوسیلی نیشنل پارک ایسے علاقے سے ملحق ہے جہاں کھیتی باڑی اور مویشی پالنا عام ہے۔

کینیا وائلڈ لائف سروس کے ڈائریکٹر جنرل ارسٹس کانگا نے کہا کہ ابتدائی لیبارٹری ٹیسٹ میں سائانائیڈ کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق سائانائیڈ ایک انتہائی زہریلا کیمیائی مادہ ہے، خصوصاً ہاتھیوں کے لیے۔

کینیا وائلڈ لائف سروس نے خبردار کیا ہے کہ اس آلودگی کے اثرات زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں کیونکہ اس علاقے میں مویشی بھی چرتے ہیں۔ ارسٹس کانگا نے کہا کہ ان کھیتوں میں صرف ہاتھی اور دیگر جنگلی جانور ہی خوراک حاصل نہیں کرتے بلکہ مقامی بکریاں اور گائے بھی وہاں چرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر واقعی یہ زہریلا مادہ پورے ایریا میں موجود ہے تو اس کے زیادہ بڑے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

جنگلی حیات کے حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ہاتھیوں میں پائے جانے والے زہریلے مادے سے فی الحال انسانی صحت کو کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں