ورلڈکپ میں نجی سرمایہ کاری کے مجوزہ منصوبے کے بعد پیدا ہونے والے بحران میں فیفا صدر کو اندرونی عہدیداروں کی حمایت حاصل

عالمی فٹبال تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کو ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے متنازع منصوبے کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے دوران ادارے کے اندرونی عہدیداروں کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

فیفا نے بدھ کو مراکش کے شہر رباط میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ سینئر حکام نے انفینٹینو کی صدارت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

فیفا کے مطابق سیکریٹری جنرل میتھیاس گرافسٹروم اور مینجمنٹ بورڈ کے ارکان نے اجلاس میں انفینٹینو کی حمایت کی، جبکہ ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے سے متعلق غلطیوں کو تسلیم کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ فیفا نے کونسل اور رکن ممالک کو خط لکھ کر ان غلطیوں پر معذرت کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں ایسے معاملات سے بچنے کے لیے طریقہ کار بہتر بنایا جائے گا۔

فیفا نے واضح کیا کہ فیفا فارورڈ انٹرپرائز (FFE) منصوبہ اب ختم کر دیا گیا ہے۔

تاہم فیفا کے طریقہ کار اور گورننس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یورپی فٹبال لیگز کی تنظیم، جس میں انگلش پریمیئر لیگ، لا لیگا اور سیری اے شامل ہیں، نے فیفا میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نجی سرمایہ کاری منصوبہ ادارے کے اندرونی فیصلوں کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

تنظیم نے کہا کہ فٹبال کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں تمام متعلقہ فریقین کو باضابطہ کردار ملنا چاہیے۔ پرتگال اور ریال میڈرڈ کے سابق کھلاڑی لوئس فیگو نے بھی انفینٹینو سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فیفا کے عہدے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھی کہا کہ انہیں اب انفینٹینو پر اعتماد نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ فیفا صدر نے سینئر مشیروں سے مشاورت نہ کرکے انتظامی سطح پر ایک بڑی ناکامی کا مظاہرہ کیا۔

گزشتہ ہفتے فیفا کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے تھے، جہاں چیف آف گلوبل فٹبال ڈیولپمنٹ آرسین وینگر نے نجی سرمایہ کاری منصوبے سے فاصلہ اختیار کیا، جبکہ انفینٹینو کے سینئر مشیر کارلوس کورڈیرو نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

انفینٹینو مارچ 2027 میں ہونے والے انتخابات میں فیفا صدر کے طور پر چوتھی اور آخری مدت کے لیے امیدوار بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق فروخت کرنے کے منصوبے پر پیدا ہونے والے تنازع نے ان کی قیادت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں