فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے ورلڈکپ 2026 پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نفرت اور غلط بیانی پر مبنی بیانیے پھیلا رہے ہیں۔ انسٹاگرام پر جاری ایک کھلے خط میں انفینٹینو نے کہا کہ ناقدین نے اس خوشی، اتحاد اور جوش کو نظرانداز کیا جو دنیا بھر کے لاکھوں شائقین نے اس ٹورنامنٹ کے دوران محسوس کیا۔
ورلڈکپ 2026 امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا گیا، جس کے فائنل میں اسپین نے ارجنٹینا کو شکست دے کر ٹرافی جیتی۔ انفینٹینو نے اپنے پیغام میں کہا کہ کچھ لوگ نفرت اور تنقید میں اس قدر مصروف رہے کہ وہ ٹورنامنٹ کا اصل جذبہ دیکھ ہی نہیں سکے۔
انہوں نے لکھا کہ جو لوگ قلم، کاغذ اور اسکرینز کے پیچھے بیٹھ کر فیفا کے خلاف نفرت اور جھوٹی افواہیں پھیلا رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ فیفا میدان میں کھڑا ہو کر دنیا کا سب سے بڑا شو منظم کر رہا تھا۔
فیفا صدر کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران کوئی تشدد، کوئی بڑا واقعہ اور سکیورٹی کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا، بلکہ صرف خوشی اور جشن کا ماحول رہا۔
انفینٹینو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فیفا کو ورلڈکپ کے دوران کئی معاملات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ان معاملات میں امریکی ویزا پابندیاں، بعض ممالک کے شائقین اور عہدیداروں کو سفر میں مشکلات، ایران سمیت تنازع زدہ علاقوں سے آنے والی ٹیموں کے مسائل، ریفری فیصلے اور ڈسپلنری کارروائیاں شامل تھیں۔ ایران کی ٹیم کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث اپنا ٹریننگ بیس ایریزونا سے میکسیکو کے شہر تیخوانا منتقل کرنا پڑا۔ ٹیم کو گروپ میچز کے لیے امریکا آنے جانے میں بھی لاجسٹک مشکلات کا سامنا رہا۔
صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ورلڈکپ ریفری عمر عبدالقدیر ارتان کو درست ویزا ہونے کے باوجود امریکا میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔ انفینٹینو نے ویزا تنازعات پر کہا کہ چند لوگوں کو ویزا نہ ملنے کا ذکر کیا گیا، مگر دنیا بھر سے منظور ہونے والے لاکھوں ویزوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی ٹیم بغیر کسی واقعے یا تصادم کے امریکا میں داخل ہوئی، کیونکہ فٹبال امن کے لیے ہے، سیاست کے لیے نہیں۔
ورلڈکپ کے دوران ایک اور تنازع امریکی کھلاڑی فولارن بالوگن کے ریڈ کارڈ کے بعد پابندی معطل کرنے کے فیصلے پر بھی سامنے آیا۔ رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا کے فیصلے پر سوالات اٹھے۔ ارجنٹینا اور مصر کے میچ میں ریفری کے فیصلوں پر بھی شائقین اور ماہرین کے درمیان بحث ہوئی۔
انفینٹینو نے کسی خاص کیس کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض ریڈ کارڈز، یلو کارڈز یا بعد کی ڈسپلنری رعایتیں دنیا کی بڑی لیگز میں بھی معمول کی بات ہیں۔ ان کے مطابق حیرت کی بات یہ ہے کہ جن ممالک میں ایسے فیصلے عام ہیں، وہی فیفا پر تنقید کر رہے ہیں۔
انفینٹینو کا خط اس وقت بھی سامنے آیا جب فیفا ورلڈکپ فائنل کے بعد ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں کے درمیان میدان میں ہونے والی تلخ جھڑپ کی تحقیقات کر رہا ہے۔
فیفا کو انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا رہا ہے، خاص طور پر انفینٹینو کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات پر سوالات اٹھائے گئے۔ انسانی حقوق کے گروپ فیئر اسکوائر نے رواں ماہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انفینٹینو نے سیاسی غیر جانبداری کے اصولوں کی خلاف ورزی کی۔
انفینٹینو نے اپنے خط میں ورلڈکپ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ فٹبال نے دنیا کو متحد کیا اور یہ بات اس موسم گرما میں واضح طور پر ثابت ہوئی، مگر ناقدین کے مطابق ایک کامیاب ٹورنامنٹ کا مطلب یہ نہیں کہ ویزا پابندیوں، سیاسی اثر و رسوخ، ڈسپلنری فیصلوں اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات کو نظرانداز کر دیا جائے۔