بالی وڈ اداکار اور فلم ساز فیروز خان کو ہندی سنیما کے ابتدائی اسٹائل آئیکونز میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت، لباس، اندازِ زندگی اور اسکرین پر موجودگی نے انہیں اپنے دور کے منفرد ستاروں میں شامل کیا۔
تاہم ان کی فلمی کامیابیوں کے ساتھ ان کی نجی زندگی بھی اکثر خبروں میں رہی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق کئی برسوں میں ان کا نام مختلف اداکاراؤں سے جوڑا گیا، جن میں ممتاز بھی شامل تھیں، مگر سب سے زیادہ چرچا ان کے مبینہ تعلق کا ہوا، جو حیدرآباد کے سابق شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایئر ہوسٹس جیوتیکا دھن راج گیر کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہی تعلق فیروز خان اور ان کی اہلیہ سندری خان کی 20 سالہ شادی کے ٹوٹنے کی بڑی وجہ بنا۔
رپورٹ کے مطابق فیروز خان کی سندری سے ملاقات 1960 کی دہائی کے آغاز میں ایک پارٹی میں ہوئی تھی۔ سندری پہلے شادی شدہ رہ چکی تھیں اور ایک بیٹی کی ماں تھیں، مگر فیروز خان ان سے متاثر ہوئے۔ تقریباً 5 سال تک تعلق کے بعد دونوں نے 1965 میں شادی کی۔ بعد میں ان کے 2 بچے، لیلیٰ خان اور فردین خان، پیدا ہوئے۔
کئی برس تک یہ رشتہ مضبوط رہا، مگر 1970 کی دہائی کے وسط میں حالات بدلنے لگے، جب فیروز خان کام کے سلسلے میں اکثر بنگلورو جاتے تھے۔ رپورٹس کے مطابق اسی دوران ان کی ملاقات جیوتیکا دھن راج گیر سے ہوئی، جو ایک ایئر ہوسٹس تھیں اور حیدرآباد کے سابق شاہی دھن راج گیر خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق کہا جاتا ہے کہ دونوں کا تعلق ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ بعض رپورٹس کے مطابق فیروز خان نے اپنے گھر سے دور رہنا شروع کر دیا اور زیادہ وقت بنگلورو کے فارم ہاؤس میں گزارنے لگے، جہاں وہ مبینہ طور پر جیوتیکا کے ساتھ بھی رہے۔
رپورٹس کے مطابق جیوتیکا کئی بار فیروز خان سے شادی کی خواہش ظاہر کرتی رہیں، مگر فیروز خان اس فیصلے کو ٹالتے رہے۔ اسی دوران سندری خان کے ساتھ ان کی شادی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
بعد میں جیوتیکا نے بھی یہ تعلق ختم کر دیا، کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ شادی کا امکان کم ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ بعد میں بیرون ملک منتقل ہو گئیں اور عوامی زندگی سے دور رہیں۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق فیروز خان نے جیوتیکا سے متعلق افواہوں پر کبھی براہ راست تفصیل سے بات نہیں کی، تاہم ایک انٹرویو میں انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شادی سے پہلے وہ پارٹیوں اور کلبوں میں بالی وڈ کی خوبصورت خواتین کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کا احترام کرتے ہیں، اسی لیے ان کی خواتین دوستوں کی تعداد زیادہ تھی، مگر کچھ لوگوں نے انہیں “ومنائزر” کا نام دے دیا۔
جیوتیکا سے تعلق ختم ہونے کے بعد فیروز خان مبینہ طور پر اپنے خاندان کی طرف لوٹے، مگر یہ واپسی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ فیروز خان اور سندری خان نے 1985 میں باضابطہ طلاق لے لی۔
فیروز خان نے اپنی علیحدگی کے بارے میں کہا تھا کہ ان کی زندگی میں کوئی تیسرا شخص نہیں تھا، نہ لڑائیاں تھیں، بلکہ دونوں آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے دور ہو گئے تھے لیکن سندری خان نے بعد میں ایک مختلف تصویر پیش کی۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اس وقت خود مختار ہوئیں جب ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے ایک رات فیصلہ کیا، اپنا سامان اٹھایا اور گھر کے نچلے حصے میں منتقل ہو گئیں۔ سندری کے مطابق وہ اور فیروز ایک ہی چھت کے نیچے رہتے تھے، مگر فرق یہ تھا کہ فیروز زیادہ تر وقت بنگلورو میں اپنی “نئی خاتون” کے ساتھ گزارتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جذباتی طور پر خود کو سنبھالنے اور تنہائی قبول کرنے میں انہیں تقریباً ایک سال لگا۔ سندری کے مطابق انہیں ایک بیوی والی زندگی کی کمی محسوس ہوئی، مگر “مسز خان” والی زندگی کی نہیں۔ تاہم سندری نے یہ بھی تسلیم کیا کہ علیحدگی کے بعد فیروز خان نے انہیں اور بچوں کو مالی طور پر محفوظ رکھا۔
ان کے مطابق فیروز خان نے انہیں اور بچوں کو ایک اچھا گھر اور بہتر زندگی فراہم کی، جس کا وہ انہیں کریڈٹ دیتی ہیں۔ طلاق کے بعد سندری خان نے اپنی انٹیریئر ڈیزائننگ کا کاروبار شروع کیا اور اپنی زندگی نئے انداز سے بنائی۔
رپورٹس کے مطابق طلاق کے بعد فیروز خان اور سندری کے تعلقات طویل عرصے تک کشیدہ رہے اور دونوں کئی برس تک ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے۔ تاہم 2009 میں فیروز خان کے انتقال کے بعد سندری ان کی آخری رسومات میں شریک ہوئیں۔
وہ اپنے بچوں کے ساتھ بنگلورو میں موجود رہیں، جہاں خاندان اور قریبی دوستوں نے فیروز خان کو آخری الوداع کہا۔