چینی محققین نے دنیا کی تیز ترین یو ایس بی تیار کر لی

چینی سائنسدانوں نے ڈیجیٹل اسٹوریج کی دنیا میں ایک نئی انقلابی پیش رفت کی ہے، جس کے تحت انہوں نے دنیا کی تیز ترین رفتار والی یو ایس بی ڈیوائس تیار کر لی ہے، جو ڈیٹا کو بجلی کی سی رفتار سے محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مقامی محققین کی ایک ٹیم نے PoX نامی ایک جدید فلیش میموری ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے، جو صرف 400 پیکوسیکنڈز میں ایک بٹ ڈیٹا محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ رفتار سیمی کنڈکٹر اسٹوریج کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ ایک پیکوسیکنڈ ایک سیکنڈ کا ٹریلینواں یا نینو سیکنڈ کا ایک ہزارواں حصہ ہوتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی نے Static RAM اور Dynamic RAM جیسے تیز رفتار میموری یونٹس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جنہیں عام طور پر ایک بٹ محفوظ کرنے کے لیے 1 سے 10 نینو سیکنڈز درکار ہوتے ہیں۔

یہ نئی ڈیوائس فلیش میموری کی اُس دیرینہ کمزوری کو بھی ختم کرتی ہے جو موجودہ کمپیوٹر میموری سسٹمز میں پائی جاتی ہے۔ عام طور پر RAM بجلی کے منقطع ہوتے ہی تمام ڈیٹا کھو دیتی ہے، جبکہ USB جیسی فلیش میموری بجلی نہ ہونے کی صورت میں بھی ڈیٹا محفوظ رکھتی ہے، لیکن اس کی رفتار محدود ہوتی ہے۔

ٹیکنالوجی ان دونوں پہلوؤں کو یکجا کرتی ہے، یعنی رفتار بھی غیر معمولی اور ڈیٹا کی پائیداری بھی برقرار۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں یہ ڈیوائسز خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) سسٹمز، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، اور حساس ڈیٹا پروسیسنگ جیسے شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، یہ پیش رفت نہ صرف کمپیوٹر ہارڈویئر کی دنیا میں ایک بڑا قدم ہے بلکہ چینی ٹیکنالوجی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی برتری کا ثبوت بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں