طویل فضائی سفر کے دوران انسانوں کو جیٹ لیگ (Jet Lag) کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے جسم کی اندرونی گھڑی اور مقامی وقت میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے سمندری پرندے بھی اسی طرح کی کیفیت کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے باعث وہ اپنے راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے مینکس شیئر واٹرز (Manx Shearwaters) نامی سمندری پرندوں کا مطالعہ کیا۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بحرِ اوقیانوس میں مشرق سے مغرب یا مغرب سے مشرق کی جانب تیز رفتار پرواز ان کی اندرونی گھڑی کو مقامی وقت سے ہم آہنگ نہیں رہنے دیتی، جس سے ان کی سمت کا تعین کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
محققین نے 20 سال کے دوران 1,045 پرندوں سے حاصل کیے گئے جی پی ایس ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ یہ پرندے برطانیہ کے قریب واقع جزیروں سے خوراک کی تلاش میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک مغرب کی جانب پرواز کرتے ہیں۔ تحقیق میں خشکی سے دور سمندر میں واپسی کی 335 پروازوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق یہ پرندے راستہ تلاش کرنے کے لیے سورج کو بطور قطب نما استعمال کرتے ہیں۔ وہ سورج کی طلوع اور غروب ہونے کی پوزیشن سے اپنی سمت کا اندازہ لگاتے ہیں، جبکہ اس عمل میں ان کی اندرونی گھڑی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم طویل مشرقی اور مغربی پروازوں کے باعث اندرونی گھڑی اور مقامی وقت میں فرق پیدا ہونے سے پرندے اپنی منزل کی درست سمت کا تعین کرنے میں غلطی کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے سربراہ اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقق پیٹرک لیون کے مطابق اندرونی گھڑی اور بیرونی وقت کے درمیان پیدا ہونے والا یہ فرق انسانوں میں جیٹ لیگ کی بنیادی وجہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرندوں کی خوراک تلاش کرنے اور آرام کرنے کی عادات بھی اندرونی گھڑی سے متاثر ہوتی ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ وقت کی یہ بے ترتیبی ان سرگرمیوں پر بھی اثر ڈالے۔
تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اندرونی گھڑی میں تبدیلی پرندوں کی دیگر سرگرمیوں کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔ تاہم سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس عمل کو سمجھنے سے نہ صرف پرندوں کی نقل و حرکت کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں گی بلکہ مستقبل میں انسانوں میں جیٹ لیگ سے بچاؤ اور اس کے علاج کے طریقے تلاش کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔