یورپی یونین نے امریکا اور چین کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے سات بڑے پیمانے کی اے آئی سہولتیں (AI Gigafactories) قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے لیے 10 ارب یورو (تقریباً 11.4 ارب ڈالر) کی سرکاری فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔
یورپی کمیشن کے مطابق اس منصوبے سے مزید 20 ارب یورو (تقریباً 22.8 ارب ڈالر) کی نجی سرمایہ کاری بھی متوجہ ہونے کی توقع ہے۔ کمیشن کی نائب صدر ہینا ورکونن نے کہا کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے دور میں یورپ کے لیے جدید کمپیوٹنگ طاقت تک رسائی ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ان اے آئی مراکز کا مقصد ٹیکنالوجی میں خود انحصاری بڑھانا اور غیر ملکی ٹیکنالوجی فراہم کنندگان پر انحصار کم کرنا ہے۔ یورپی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اہم ٹیکنالوجی اور سپلائی چینز پر بیرونی انحصار مستقبل میں خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
منصوبے کے تحت ہر اے آئی گیگا فیکٹری میں کم از کم ایک لاکھ جدید اے آئی چپس نصب ہوں گی، جبکہ یہ مراکز موجودہ یورپی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ طاقتور ہوں گے۔ ساتوں مراکز فعال ہونے کے بعد یورپ کی مجموعی اے آئی کمپیوٹنگ صلاحیت دوگنی سے زیادہ ہو جائے گی۔
اس وقت یورپی یونین میں فن لینڈ سے اسپین تک 19 اے آئی ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یورپ اب بھی امریکا اور چین سے کئی اہم شعبوں میں پیچھے ہے۔ امریکا میں اے آئی کمپنیوں کو زیادہ نجی سرمایہ کاری حاصل ہے جبکہ چین کے پاس ڈیٹا سینٹرز کے لیے بڑی توانائی صلاحیت موجود ہے۔
یورپ کو ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے زیادہ لاگت، توانائی کی قیمتوں اور ضروری پرزوں کی فراہمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق امریکا اور چین کے مقابلے میں یورپ میں بجلی کی قیمتیں دو سے تین گنا زیادہ ہو سکتی ہیں۔
یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ نئے اے آئی مراکز سے تیار ہونے والی ٹیکنالوجی کو یورپی یونین کے ڈیٹا تحفظ، سکیورٹی، حفاظت اور اخلاقی معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ فرانس کی اے آئی کمپنی Mistral پہلے ہی یورپ کے بڑے اے آئی ڈیٹا مراکز میں سے ایک چلا رہی ہے، تاہم وہ امریکا کی بڑی کمپنیوں اور چین کے حریفوں سے پیچھے ہے۔
یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ میں اے آئی کے روزگار، معیشت، رازداری اور ماحولیات پر اثرات کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ دنیا بھر کے کئی شہروں نے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے توانائی اور ماحولیاتی اثرات کو محدود کرنے پر بھی زور دیا ہے۔