پاکستان: صوبہ پنجاب کے تین دریاؤں میں ایمرجنسی الرٹ جاری، قریبی رہنے والے افراد کو محفوظ مقام پر جانے کی ہدایت

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے، این ڈی ایم اے کے تحت قائم نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے صوبہ پنجاب کے تین دریاؤں، چناب، راوی اور ستلج کے حوالے سے ایمرجنسی الرٹ جاری کیا ہے۔

نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق، ان تینوں دریاؤں میں اس وقت شدید سیلابی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔

جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 7 لاکھ 69 ہزار 481 کیوسک کا انتہائی بلند درجے کا سیلابی ریلا موجود ہے جس سے دریا کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ خانکی کے مقام پر 7 لاکھ 5 ہزار 225 کیوسک کے شدید درجے کے سیلابی ریلے میں کمی آ رہی ہے۔

این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، دریائے راوی میں جسر کے مقام پر 2 لاکھ 2 ہزار 200 کیوسک کا اونچے درجے کا سیلابی ریلا موجود ہے جو 2 لاکھ 29 ہزار 700 کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔ شاہدرہ پر اس وقت 72 ہزار 900 کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، تاہم اس ریلے کی وجہ سے شاہدرہ، پارک ویو اور موٹروے ٹو کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خدشہ ہے۔

اسی طرح دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 2 لاکھ سے زائد کیوسک کا انتہائی بلند درجے کا سیلابی ریلا موجود ہے، جس کے نتیجے میں سلیمانکی کے مقام پر 1 لاکھ 355 کیوسک کا بہاؤ گزر رہا ہے۔

پنجاب میں ان تینوں دریاؤں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے اور سول و عسکری اداروں سے رابطے میں ہے۔

این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور آبی گزرگاہوں پر رہنے والے افراد فوری طور پر محفوظ مقامات کا رخ کریں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں، ہنگامی صورتحال میں امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں، متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، ہنگامی کٹ (خوراک، پانی، ادویات) تیار رکھیں اور ضروری دستاویزات محفوظ بنائیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں