پیٹرول کے بعد بجلی بھی مہنگی ہونے کا امکان

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں بجلی بھی مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اگست کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں اضافے کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کردی گئی ہے۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی، سی پی پی اے کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق بجلی کی قیمت میں ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، 29 ستمبر کو سماعت کرے گی۔

درخواست منظور ہونے کی صورت میں اس اضافے کا اطلاق کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین پر ہونے کا امکان ہے، جبکہ کے الیکٹرک کے صارفین بھی مجوزہ اضافے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

سی پی پی اے کے مطابق اگست میں ڈسکوز کو 14 ارب 46 کروڑ 40 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی، جبکہ اس بجلی کی اوسط لاگت 8 روپے 82 پیسے فی یونٹ رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق اگست میں مجموعی بجلی پیداوار میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 37.84 فیصد رہا۔ مقامی کوئلے سے 10.88 فیصد جبکہ درآمدی کوئلے سے 15.59 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

اسی طرح فرنس آئل سے 2.15 فیصد، مقامی گیس سے 7.04 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 8.48 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔

سی پی پی اے کے مطابق فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 45 روپے 25 پیسے فی یونٹ جبکہ درآمدی ایل این جی سے بجلی کی پیداواری لاگت 45 روپے 92 پیسے فی یونٹ رہی۔

اب مجوزہ فیول ایڈجسٹمنٹ پر نیپرا کی 29 ستمبر کی سماعت کے بعد فیصلہ ہوگا کہ صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں