ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ڈائیٹ مشروبات کا زیادہ استعمال چربی دار جگر کی بیماری (Fatty Liver Disease) کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔ مصنوعی مٹھاس آنتوں کے بیکٹیریا پر اثر انداز ہو کر جسم کے میٹابولک نظام میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر “کم کیلوریز” والے یہ مشروبات صحت کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔ تازہ سائنسی شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ صرف ایک ڈائیٹ مشروب پینے سے بھی جگر میں چربی جمع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق بعض افراد میں اس بیماری کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈائیٹ ڈرنکس میں شامل مصنوعی مٹھاس دراصل جسم کے قدرتی نظام کو دھوکہ دیتی ہے، جس سے جگر اور میٹابولزم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ نتائج حال ہی میں یورپی گیسٹرو اینٹرولوجی کانفرنس میں پیش کیے گئے، جن میں یوکے بایو بینک کے ہزاروں شرکا کے ڈیٹا کا تجزیہ شامل تھا۔ مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ چینی والی اور ڈائیٹ دونوں قسم کی فزی ڈرنکس کے باقاعدہ استعمال سے جگر کی صحت متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی مٹھاس آنتوں کے بیکٹیریا کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کی میٹابولک کارکردگی میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یہی خرابی بھوک میں اضافہ، وزن بڑھنے، انسولین کی مزاحمت اور چربی کے ذخیرہ ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔
تحقیق کاروں نے واضح کیا کہ اگرچہ ڈائیٹ مشروبات کو اکثر وزن کم کرنے یا شوگر کنٹرول کے متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر ان کا طویل المدتی استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین صحت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کو صحت مند انتخاب نہ سمجھیں بلکہ پانی، تازہ جوس یا دیگر قدرتی متبادل استعمال کریں تاکہ جگر کی بیماریوں سے بچا جا سکے۔