ڈائٹ ڈرنکس دل کی دھڑکن کے لیے خطرناک، پرہیز کا مشورہ

ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہفتے میں دو یا اس سے زیادہ لیٹر ڈائیٹ ڈرنکس پینے سے دل کی بے قاعدہ دھڑکن کا خطرہ 20 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ طب میں اس کیفیت کو ایٹریل فبریلیشن کہا جاتا ہے۔
دنیا بھرمیں تقریباً 40 ملین لوگ ایٹریل فیبریلیشن کا شکار ہیں جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔ یہ دورے کچھ مریضوں میں مختصر، ایپیسوڈک ادوار کے لیے ہو سکتے ہیں یا دوسروں میں مستقل طور پر جاری رہ سکتے ہیں۔
نئی تحقیق میں تقریباً دو لاکھ افراد کے ڈیٹا کو دیکھا گیا۔ شرکاء کی عمریں 37 سے 73 سال کے درمیان تھیں۔ انہیں اوسطاً 10 سال تک فالو کیا گیا اور ان میں سے نصف سے زیادہ خواتین تھیں۔ .
ٹیم نے دیکھا کہ جو لوگ ہر ہفتے دو یا اس سے زیادہ لیٹر ڈائیٹ ڈرنکس پیتے تھے ان میں ایٹریل فبریلیشن ہونے کا امکان 20 فیصد زیادہ ہوتا ہے، جب کہ جو لوگ اتنی ہی مقدار میں شوگر پر مشتمل مشروبات پیتے ہیں ان میں ایٹریل فبریلیشن ہونے کا امکان 10 فی صد زیادہ ہوتا ہے۔
دوسری طرف تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اتنی ہی مقدار میں تازہ، بغیر میٹھا جوس پینے سے ایٹریل فبریلیشن کا خطرہ آٹھ فیصد کم ہوتا ہے۔
محققین نے کا کہنا ہے کہ ڈائیٹ ڈرنکس کے سب سے زیادہ صارفین خواتین، کم عمر افراد، وزن والے افراد اور ٹائپ دو ذیابیطس میں مبتلا افراد تھے۔ ماہرین اس سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں، ان کے مطابق بغیر چینی ملا تازہ جوس پینا زیادہ بہتر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں