‘اگر ملکی مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کا مطلب گڈ گورننس کے لیے کچھ کرنا پڑے گا’، پاکستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیا کہا؟

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملکی مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گڈ گورننس کے لیے کچھ کرنا پڑے گا۔

انہوں نے جمعے کو ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، خصوصاً بلوچستان، سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں سمیت سب سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے کہ مسائل حل ہوں، تاہم اچھی حکمرانی کے بغیر یہ معاملات حل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے، تو وہ ہونی چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 1972 میں پاکستان کی آبادی 7 سے 8 کروڑ تھی جو آج 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ ریاست نے نہیں بلکہ سیاستدانوں اور عوام نے کرنا ہے۔

انتظامی ری سیٹ سے متعلق وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، اس پر بات نہیں کریں گے۔

ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، خصوصاً بلوچستان، ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اب تک ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں میں پولیس، سول آرمڈ فورسز، انٹیلی جنس اداروں اور مسلح افواج کی کارروائیاں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 31 ہزار سے زیادہ کارروائیاں بلوچستان میں کی گئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال ملک بھر میں دہشت گردی کے تین ہزار 145 واقعات پیش آئے، جن میں ایک ہزار 971 خیبر پختونخوا، ایک ہزار 148 بلوچستان اور 26 دیگر علاقوں میں رپورٹ ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس دوران 2084 تصدیق شدہ دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 819 پاکستانی شہیدہوئے۔ ان میں فوج کے 303 اہلکار، پولیس اور سول آرمڈ فورسز کے 194 اہلکار اور 322 عام شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال خودکش حملوں کے 28 واقعات ہوئے اور کہا کہ ان میں سے زیادہ تر افغان شہریوں اور افغان سکیورٹی فورسز سے منسلک افراد نے کیے۔

ان کے مطابق 2025 میں دو ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ رواں سال اب تک 2084 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات بڑھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب مخالف عناصر کی دیگر حکمت عملیوں کے نتائج کم ہونے لگتے ہیں تو وہ دہشت گردی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے طالبان حکومت پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کے ساتھ کوئی مفاہمت یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔

ان کے مطابق دہشت گردوں کے لیے دو ہی راستے ہیں، یا وہ قانون اور آئین کے مطابق ریاست کی عملداری تسلیم کریں یا سکیورٹی فورسز کا سامنا کریں۔

بلوچستان کی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معاملے کو تین سوالات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے، مسئلہ کیا ہے، کیا ہو رہا ہے اور کیا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی صورتحال خراب ہونے کا تاثر جان بوجھ کر پیدا کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ ‘کیا پاکستان ایک “ہارڈ اسٹیٹ” ہے، نہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ سے مراد فوجی یا مسلح افواج کے زیر اثر ریاست نہیں بلکہ ایسی ریاست ہے جہاں قانون اور آئین سب کے لیے یکساں ہوں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہری اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن ذمہ داریوں پر کم توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل پانچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی پابندی ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ان کے مطابق اگر شہری ریاست سے وفادار اور آئین و قانون کے تابع ہوں تو اس کے بعد وہ اپنے حقوق کی بات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقوق کی تحریک کے ساتھ ذمہ داریوں کی تحریک بھی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہر شہری کی پہلی، آخری اور سب سے اہم شناخت پاکستانی ہونی چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ اشرافیہ، سرداری نظام اور موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی خواہش ہے۔ ان کے مطابق بعض بااثر افراد چاہتے ہیں کہ وہی نظام برقرار رہے جس میں غریب کے بچے کو تعلیم اور ترقی کے مواقع نہ مل سکیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسے لوگ دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ حالات بدل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گرد عناصر سے بات نہیں کرے گی بلکہ بلوچستان کے حقیقی فریق، یعنی وہاں کے عوام، سے بات کرے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بعض عناصر پر الزام عائد کیا کہ وہ لیویز فورس کو اپنی ذاتی یا سرداری فورس سمجھتے ہیں اور جب اسے پولیس میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بعض عناصر کاروبار کے نام پر سمگلنگ کرتے ہیں اور اس کی روک تھام پر دہشت گردی اور بلوچستان کے ہاتھ سے نکلنے کا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، انسانی صلاحیت، بحری معیشت اور زراعت کی وجہ سے بیرونی طاقتیں صوبے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ طاقتیں دہشت گردوں کے ذریعے مداخلت کرتی ہیں اور انہیں مقامی اشرافیہ اور سرداروں میں شراکت دار مل جاتے ہیں۔

انہوں نے افغانستان کو دہشت گردوں کے لیے مسلسل مدد فراہم کرنے والا مرکز قرار دیتے ہوئے افغان طالبان حکومت پر دہشت گردی کے ذریعے اپنی معیشت، ریاست اور سفارت کاری چلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان میں سرگرم مسلح گروہوں کے نظریات مختلف ہیں، لیکن اب وہ مربوط کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان سے متعلق پروپیگنڈا تین اہم نکات پر کیا جاتا ہے، احساس محرومی، نمائندگی کی کمی اور لاپتہ افراد۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا فی کس بجٹ 75 ہزار روپے سے زیادہ ہے، جو دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق ترقی روکنے کے لیے مزدوروں، سڑکوں، ہسپتالوں اور پلوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر احساس محرومی کا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

نمائندگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 1973 سے وہی خاندان اور افراد اسمبلیوں میں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہ کامیاب ہوں تو اسے جمہوریت کہا جاتا ہے اور اگر ہار جائیں تو آمریت کا الزام لگایا جاتا ہے۔

لاپتہ افراد سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کو 2010 کی دہائی کے آغاز سے اب تک 10 ہزار 901 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق 9 ہزار 372 مقدمات نمٹا دیے گئے، جن میں 4 ہزار 896 افراد گھروں کو واپس آئے، تقریباً ایک ہزار 30 جیلوں میں ملے، 308 مردہ پائے گئے اور 2 ہزار 400 کیس غلط رپورٹنگ قرار دیے گئے۔

ان کے مطابق بلوچستان سے 2 ہزار 933 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے 2 ہزار 767 نمٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض کیسز میں لاپتہ افراد کارروائیوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں میں ملتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد اب حملوں کی ویڈیوز بناتے ہیں تاکہ بلوچستان کی صورتحال خراب ہونے کا تاثر دیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کا رقبہ تین لاکھ 47 ہزار 190 مربع کلومیٹر ہے، جس کے باعث مزید سکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایف سی ویسٹ کی نئی کمان اور اس سے منسلک یونٹس کے قیام کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق رواں سال بلوچستان میں دہشت گردوں نے 178 شہریوں کو قتل، 55 کو اغوا، 24 مقامات پر سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچایا، 60 مقامات پر املاک کو آگ لگائی اور لوٹ مار کے 47 واقعات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور لیویز کو 105 واقعات میں نشانہ بنایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع رقبے اور محدود وسائل کے باعث پولیس کو پہلے ردعمل دینے والے ادارے کے طور پر مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے سابق حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے لیویز کو سرداری فورس کے طور پر برقرار رکھا اور پولیس کے لیے مختص فنڈز کو ضروری سازوسامان میں تبدیل نہیں کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پولیس کی کارروائیوں کو سراہا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد لڑکیوں کو ’ہنی ٹریپ‘ کے ذریعے پھنساتے، اغوا اور زیادتی کے بعد انہیں بلیک میل کر کے دہشت گرد کارروائیوں پر مجبور کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی سے متعلق 300 بھارتی ویب سائٹس اور ایک ہزار سے زیادہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم مخالف عناصر پر بھی دہشت گردی سے متعلق پروپیگنڈے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

ان کے مطابق پہلے کسی واقعے کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے، پھر مختلف اکاؤنٹس اسے مخصوص بیانیے میں ڈھالتے ہیں، اس کے بعد اسے بڑے پیمانے پر پھیلایا جاتا ہے اور بھارتی میڈیا کے ذریعے بین الاقوامی میڈیا تک پہنچایا جاتا ہے۔ انہوں نے 16 جولائی کو مستونگ میں قافلے پر حملے کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلوچستان یکجہتی کمیٹی، بلوچستان لبریشن آرمی اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ بیرون ملک موجود اکاؤنٹس نے اسے پھیلایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شعبان جاری تھا، جسے بعد میں آپریشن العزم میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کارروائیاں فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس مشترکہ طور پر انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہونے کا بھی ذکر کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان سے 26 لاکھ افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجا جا چکا ہے، جن میں چھ لاکھ رواں سال واپس گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں