اصل لکھاری وہ نہیں ہوتا جو وقتی شور پیدا کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ہجوم میں بھی ٹھہراؤ کے ساتھ بات کہہ جائے۔ جو لفظوں کو ہتھیار نہیں بلکہ آئینہ بنائے۔ شاید اسی لیے اب قلم ادب کے محل میں داخل ہو رہا ہے، جہاں الزام نہیں، تجزیہ ہوتا ہے اور پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر حقیقت لکھی جاتی ہے۔ یہی تربیت اور ذہنی پختگی کا وہ ثبوت ہے جس سے عوام و خواص دونوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ہمارے اندر الابالی پن نہیں۔
ضلع قصور میں موجودہ ڈپٹی کمشنر آصف رضا سے صحافیوں کی مشترکہ تعارفی تقریب اسی تناظر میں اہم تھی۔ انہوں نے اپنا تعارف اور مؤقف فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کیا، جبکہ صحافیوں نے بھی حسبِ ضرورت اور توفیق سوالات کیے۔ سب سے آخر میں مجھے مختصر ترین سوال کا موقع ملا، جو دراصل ایک طویل انتظامی مکالمے کا نچوڑ تھا۔
یہاں یہ حقیقت نظر انداز کرنا بددیانتی ہوگی کہ سابق ڈپٹی کمشنر عمران علی نے معاملات کو مینج کرنے میں خاص مہارت دکھائی اور بہت سے بنیادی کاموں کی سعی کی، تاہم بعض ناقدین کے مطابق وہ پنجاب گورنمنٹ کی صوبائی سطح کی رینکنگ میں ضلع قصور کو نمایاں مقام دلانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ تجزیہ ذاتی نہیں بلکہ سرکاری رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس موجودہ ڈپٹی کمشنر آصف رضا کے چند دنوں پر مشتمل دورانیے میں ضلع قصور کی رینکنگ میں نمایاں بہتری سامنے آئی، جو ان کی عملی، حقیقی اور شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے۔
یہ تحریر کسی تعریفی اسناد کی صورت نہیں بلکہ ایک غیر جانبدار صحافی اور مصنف کا طائرانہ جائزہ ہے۔ مسائل اپنی جگہ، ادارہ جاتی خامیاں اپنی جگہ، مگر بہتری کا ذکر نہ کرنا محض ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر ہو تو وہ پروفیشنل صحافت کو زیب نہیں دیتا، خصوصاً ایسے سسٹم میں جہاں مجموعی تباہ کاریوں کے باوجود کہیں کہیں اصلاح کی کرن بھی نظر آ رہی ہو۔
ہمارے اداروں میں مسائل مگرمچھوں کی طرح اصلاحات کو نگلنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، خاص طور پر سفید ہاتھی نما میونسپل کارپوریشن قصور، جس کی نوک پلک درست کرنے کی کوشش سابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل چوہدری جعفر گجر نے کی تھی۔ اب یہ امتحان موجودہ ڈپٹی کمشنر کے لیے بھی ہے کہ وہ کس نوعیت کا مؤثر اور قابلِ عمل میکنزم ترتیب دیتے ہیں تاکہ مکمل نہیں تو کم از کم بہتر نتائج حاصل ہو سکیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا موجودہ طاقتور سیاسی قیادت ان کے ہمرکاب رہے گی یا سیاسی و حکومتی گروپنگ، بعض اداروں میں موجود سیاسی فرنٹ مین، محلاتی سازشیں اور چغلیاں انتظامی افسران کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اگر افسران ان اندرونی سازشوں سے محفوظ رہیں تو کامیاب و کامران رہتے ہیں، بصورت دیگر بہترین نیت اور محنت بھی غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ یہی خدشات چائے کے ڈھابوں سے لے کر سرکاری دفاتر کی راہداریوں تک زیرِ بحث ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے پہلے ہی دن واضح کر دیا کہ کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ نتیجتاً سرکاری ملازمین کو رات گئے تک دفاتر میں کام اور صبح نو بجے حاضری دینا پڑ رہی ہے۔ کچھ اسے نظم و ضبط کی بحالی سمجھتے ہیں، کچھ اسے مسلسل زیادتی قرار دیتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر بروقت ہدایات پر عمل یقینی بنایا جائے تو رات گئے تک بیٹھنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ فیصلہ بہرحال ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کو ہی کرنا ہے کہ توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
ناجائز تجاوزات کے خاتمے، صفائی ستھرائی، ریڑھی بازار و رکشا اسٹینڈز کی ترتیب، سڑکوں کے اطراف جھاڑیوں کا خاتمہ، صاف پانی کی فراہمی، ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی مجموعی کارکردگی، ٹیکس کلیکشن، پرائس مجسٹریٹس کی سخت مانیٹرنگ، ہسپتالوں کی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اجلاس اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں بہتر ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی یہ سب اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تعارفی تقریب میں کہی گئی باتیں محض دعوے نہیں تھیں بلکہ ان پر عمل بھی ہو رہا ہے۔
بلاشبہ اس وقت ڈپٹی کمشنر قصور کے پاس ایک متحرک ٹیم موجود ہے۔تمام اسسٹنٹ کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، سی ای او ہیلتھ، سی ای او ایجوکیشن، تحصیلداران اور مختلف میونسپل کمیٹیوں کے چیف آفیسرز۔ خاص طور پر وہ ادارے جہاں اسٹاف اور وسائل “اونٹ کے منہ میں زیرہ” کے مترادف ہیں، جیسے میونسپل کمیٹی کوٹ رادھا کشن، اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ البتہ بعض مقامات پر یہ رپورٹس بھی تشویشناک ہیں کہ چند ہیڈ کلرک صاحبان اپنی ذاتی سہولت کے لیے دیگر اداروں کے امور میں مداخلت کر کے نظام کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ قصور کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر اور دیرپا پلان ناگزیر ہے۔ موجودہ حالات میں بہترین اور طاقتور ایڈمنسٹریٹرز بھی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک گراس روٹ لیول سے لے کر اوپر تک تمام اسٹیک ہولڈرز سر جوڑ کر نہ بیٹھیں۔ یہ ایک سنہری موقع ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور سی ای او ہیلتھ جیسے فرض شناس افسران کی صلاحیتوں سے جو کوئی بھی دور اندیشی رکھنے والا صاحب نظر محسوس کرسکتا ہے ،سیاسی و صحافتی قیادت اور مخیر حضرات سب ملکر کر مخلوقِ خدا کی خدمت میں تاریخ رقم کرسکتے ہیں ۔
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قصور (بابا بلھے شاہ) میں لیپروسکوپی مشین کی فراہمی، گورنمنٹ بوائز اسلامیہ کالج قصور کے لیے نئی عمارت اور مستحق طلبہ کی تعلیمی معاونت ایسے منصوبے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے سرمایۂ افتخار بن سکتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں صاف پانی کی قلت، خصوصاً تحصیل کوٹ رادھا کشن کے گاؤں متا سمیت دیگر دیہات جہاں ہیپاٹائٹس اور معدے کے امراض عام ہو چکے ہیں، فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ سپیشل طبی کیمپس، بلڈ ٹیسٹنگ اور واٹر سپلائی کے جامع منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اسی طرح گٹکا مافیا کے خلاف سخت مانیٹرنگ، واپڈا کی ناقص سہولیات، لٹکتی تاریں، طویل بریک ڈاؤن اور غیر معیاری تعمیراتی منصوبے اصلاح کے منتظر ہیں۔
امن و امان کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں، خصوصاً ٹریفک قوانین پر عملدرآمد۔ پولیس کی عوامی پلسنگ میں بہتری خوش آئند ہے، تاہم چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بحال رکھنا اور غیر ضروری مقدمات سے گریز وہ راستہ ہے جس سے عام شہری خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ پولیس کے کردار کو سراہ سکے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ضلع قصور اس وقت ایک نازک مگر امید افزا موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر افسران محلاتی سازشوں سے محفوظ رہے، سیاسی قیادت معاون بنی اور ادارہ جاتی اصلاحات تسلسل سے جاری رہیں تو یہ بہتری محض رینکنگ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوامی زندگی میں واضح طور پر محسوس کی جائے گی۔