بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی حکومت نے فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے ایک نئی اور وسیع الیکٹرک وہیکل پالیسی متعارف کرائی ہے۔ اس پالیسی کے تحت آئندہ چند برسوں کے دوران شہر میں رجسٹر ہونے والی زیادہ تر نئی گاڑیوں کو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں (الیکٹرک کارز) میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ پالیسی یکم جولائی 2026 سے نافذ کی گئی ہے اور اس کا مقصد 2027 تک دہلی میں نئی رجسٹر ہونے والی گاڑیوں کی بڑی اکثریت کو الیکٹرک بنانا ہے۔
پالیسی کے تحت پہلے سے موجود پٹرول، ڈیزل یا سی این جی گاڑیوں پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی، تاہم حکومت کو توقع ہے کہ نئی الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں میں بتدریج کمی آئے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھارت میں اب تک متعارف کرائی جانے والی سب سے زیادہ پرعزم الیکٹرک وہیکل پالیسیوں میں سے ایک ہے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار شہر میں چارجنگ اسٹیشنوں کی تعداد بڑھانے، بجلی کے نظام کو بہتر بنانے اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں اضافے پر ہوگا۔
نئی پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیاں خریدنے والے شہریوں کو سبسڈی، رجسٹریشن فیس اور بعض روڈ ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے گی۔
پرانے پٹرول یا ڈیزل سے چلنے والے گاڑیوں کو ختم کرنے والے افراد کو بھی مالی مراعات فراہم کی جائیں گی۔ منصوبے کے مطابق الیکٹرک گاڑی خریدنے پر شہریوں کو 50 ہزار بھارتی روپے تک دیے جا سکتے ہیں، جبکہ پرانی پٹرول گاڑی ختم کرنے پر ایک لاکھ روپے تک کی مراعات فراہم کی جائیں گی۔
حکام کا اندازہ ہے کہ اس منصوبے پر دہلی حکومت کے تقریباً 150 ارب بھارتی روپے خرچ ہوں گے۔
پالیسی میں خصوصی توجہ دو پہیوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں پر دی گئی ہے کیونکہ یہ دہلی میں موجود مجموعی گاڑیوں کا تقریباً 70 فیصد بنتی ہیں۔
منصوبے کے مطابق 2027 سے نئی رجسٹر ہونے والی تمام تین پہیوں والی گاڑیاں اور چھوٹے مال بردار ٹرک الیکٹرک ہونا ضروری ہوں گے، جبکہ اس کے اگلے سال نئی دو پہیوں والی گاڑیوں کے لیے بھی یہی شرط نافذ کرنے کا ہدف ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت دہلی میں تقریباً 87 لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، لیکن ان میں سے صرف پانچ فیصد کے قریب الیکٹرک ہیں۔ تاہم الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں رجسٹر کی گئی ہیں، جن میں زیادہ تر موٹر سائیکلیں، سکوٹر اور تین پہیوں والی گاڑیاں شامل ہیں۔
مالی سال 2026 کے دوران دہلی میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ تقریباً 12.7 فیصد رہا، جبکہ بھارت بھر میں یہ شرح 8.3 فیصد تھی۔
پالیسی کے باوجود فی الحال نئی پٹرول کاروں اور بڑے ٹرکوں کی رجسٹریشن جاری رہے گی۔
دہلی کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں شہر میں شدید دھند اور فضائی آلودگی کے باعث اکثر سکول بند کرنا پڑتے ہیں، تعمیراتی سرگرمیاں روک دی جاتی ہیں اور ہنگامی صحت اقدامات نافذ کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دہلی اور اس کے آس پاس کے قومی دارالحکومت خطے میں فضائی آلودگی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ گاڑیوں سے پیدا ہوتا ہے۔
شہر میں دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں ‘گاڑیوں سے پیدا ہونے والی مجموعی آلودگی’ کے تقریباً نصف کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے سڑکوں کے کنارے رہنے اور سفر کرنے والے لوگوں کو گاڑیوں کے دھویں اور زہریلی گیسوں سے کم واسطہ پڑے گا۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی میں نمایاں کمی فوری طور پر ممکن نہیں ہوگی کیونکہ لاکھوں پٹرول، ڈیزل اور سی این جی گاڑیاں آئندہ کئی برس تک سڑکوں پر چلتی رہیں گی۔
اے پی کے مطابق دہلی میں الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ شہر میں موجود چارجنگ سہولتیں ابھی ناکافی ہیں۔ الیکٹرک سکوٹر استعمال کرنے والے ایک شہری شیام سنگھ کے مطابق طویل فاصلے کا سفر کرنے والوں کے لیے الیکٹرک گاڑی استعمال کرنا مشکل ہے کیونکہ بیٹری کی صلاحیت محدود ہے اور ہر جگہ چارجنگ اسٹیشن دستیاب نہیں ہیں۔
کچھ شہری الیکٹرک گاڑیوں کی قیمت، بیٹری کی عمر اور بارشوں کے دوران سڑکوں پر جمع ہونے والے پانی سے گاڑیوں کے برقی نظام کو نقصان پہنچنے کے خدشات کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔
شمالی دہلی کے رہائشی اور سافٹ ویئر انجینیئر سدھانت جھا کا کہنا ہے کہ وہ بہتر اور زیادہ قابلِ اعتماد ماڈلز آنے تک چند سال انتظار کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق الیکٹرک گاڑی خریدنے پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہوں گے، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ انہیں قیمت کے مطابق بہتر بیٹری، زیادہ رینج اور آسان چارجنگ کی سہولت ملے۔
رپورٹ کے مطابق توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کو نہ صرف زیادہ چارجنگ اسٹیشن بنانا ہوں گے بلکہ بجلی کی ترسیل کے نظام کو بھی اپ گریڈ کرنا ہوگا۔ بسوں، کارگو گاڑیوں اور بڑی کاروں کے لیے تیز رفتار چارجرز کی ضرورت ہوگی، جو بجلی کے نظام پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بجلی کے نیٹ ورک کو بروقت بہتر نہ بنایا گیا تو زیادہ طلب کے دوران نظام میں خرابی یا بجلی کی بندش کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس وقت زیادہ تر الیکٹرک گاڑیاں رات کے وقت چارج کی جاتی ہیں، جب شمسی توانائی دستیاب نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے کوئلے اور دیگر روایتی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ چارجنگ اسٹیشنوں پر بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام نصب کیے جائیں اور بجلی کی قیمت مختلف اوقات میں مختلف رکھی جائے، تاکہ لوگ اس وقت گاڑیاں چارج کریں جب شمسی یا دیگر قابلِ تجدید توانائی زیادہ دستیاب ہو۔