ڈیپ سیک آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کی چوری                                       

اعظم علی(سنگاپور)

چینی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنے  آرٹئفیشل انٹیلیجنس پلیٹ فارم کولانچ  کیا تو دنیا  زلزلے کی کیفیت کا شکار ہو گئی ۔ کہ   چینی کمپنی نے  آرٹئفیشیل انٹیلیجنس پر امریکی اجارہ داری کو توڑ دیا۔

پہلا جھٹکہ تو اسٹاک مارکیٹ میں آیا کہ آٹئفیشیل انٹیلیجنس کی کمپنی OpenAI  تو لسٹڈ نہیں ہے لیکن  اس آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے لئے چپ بنانے والی کمپنی Nvidia اور اوپن اے آئی کے مل کر نئی چِپ بنانے والی کمپنی Broadcom  کے  حصص کو شدید گراوٹ کا سامنا  ہوا  ۔

 کسی بھی آرٹئفیشیل انٹیلیجنس سسٹم  کے دو حصے سافٹوئیر اوراس چلانے کے لئے طاقتور پروسیسر چپ جو دنیا بھر میں اسوقت واحد کمپنی  Nvidia ہی بناتی ہے  درکار ہوتے ہیں۔

سافٹوئیر کی بات تو بڑی حدتک واضع ہے کہ OpenAI  نے اپنا اے آیی سافٹوئیر ڈیولپرز کے لئے کھلا رکھا ہوا تھا تاکہ کوئی بھی (مفت یا تھوڑی سی  فیس دے کر) ڈاؤن لوڈ کرکے استعمال کرلے۔

ڈیپ سیک نے یہ نہیں بتایا کہ اُنہوں نے اپنا R1 ماڈل بنانے کے لیے  ڈیٹا کہاں سے حاصل کیا لیکن ایسے اشارے موجود ہیں کہ انہوں نے اوپن سورس ہی کے سسٹم کو ڈاؤن لوڈ کرکے اپنے ماڈل کی تربیتی صلاحیت کو اگلے درجے پر پہنچائی ہے۔   ڈیپ سیک کا یہ ماڈل اتنا  کارگر ہے کہ اسے اپنے مدمقابل میٹا کے Llama 3.1  کے مقابلے میں صرف دس فیصد کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت پڑتی ہے۔

“ہم اس بات سے واقف ہیں   کہ ڈیپ سیک نے نامناسب طور پر ہمارے ماڈلز سے معلومات کشید  (چوری)  کئے ہیں ، ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں  اور جوں جوں تفصیلات سامنے آئیں گی فوری طور پر آگاہ کریں گے (عوام و میڈیا کو) آگاہ کریں گے، ہم اپنی  ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لئے بھرپور اقدامات کریں گے۔”

 (اوپن اے آئی  کا اعلامیہ)

دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ کیا ڈیپ سیک کے یہ سب کچھ  ‏Nvidia   کی  چِپ حاصل کئے  بغیر حاصل کیا ہے؟

یہ بات پہلے  ہی ریکارڈز پر ہے کہ  کہ 2022  میں امریکی حکومت نے چینی AI  کمپنیوں کو  جدید ترین Nvidia کی  چپ  فروخت پر پابندی لگادی تھی ۔۔ لیکن ڈیپ سیک  پابندیاں لگنے سے پہلے ہی Nvidia  کی  H100   چپ  10,000 عدد خرید چُکی تھی،  جو ان کی ضرورت کے لئے ناکافی تھی۔

 اس معاملے  میں اس وقت پوری دنیا کے بڑے تجارتی ممالک بشمول سنگاپور میں اس بات کی تحقیقات ہورہی ہے کہ کیا چین نے   Nvidia  کی چپ  وہاں سے حاصل کی ہے۔  میری زندگی کا بڑا حصہ سنگاپور کے الیکٹرونکس پرزہ جات کی ہول سیل  مارکیٹ میں گذرا ہے ۔ جہاں میرا  تو اس قسم کی چپ سے واسطہ نہیں پڑا لیکن  اس قسم کی وارداتیں عام ہیں ۔

عموما  ڈسٹربیوٹر اپنے منافعے کے لئے  اکثر جان بوجھ کر کسی پابندیوں سے  مبرا ملک یا ادارے  کے نام پر یہ سامان جاری کرایا جاتا ہے۔ اس کے لئے کاغذ کا پیٹ بھرنے کے لیے جعلی کاغذات و کوائف فراہم کئے جاتے  ہیں۔ لیکن سامان کسی اور ملک یا ادارے کو فروخت کردیا جاتا ہے ۔جب تک کوئی بڑی شکایت سامنے نہ آئے  یہ معاملہ خاموشی کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔

لیکن بات کھلنے پر جو بھی اس قسم کی حرکت میں ملوث ہوتا ہے  اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ 2012  میں سنگاپور کی ایک کمپنی نے وہاں کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی سنگاپور ٹیلی کام کے جعلی  آرڈر کے ذریعے امریکہ سے  کچھ

پرزہ جات منگوا کر ایران بھیجے تھے۔ بات کھُلنے کے بعد اس کمپنی کے تین افراد  کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کردیا گیا جہاں  انہیں  قید کی سزا دی گئی۔

اسی طرح امریکی کمپیوٹر کمپنی Hp  کا واقعہ یاد ہے ۔ جب پاکستان و دیگر چند ممالک کے نام سے فروخت کردہ لیپ ٹاپ و پرنٹر ایران میں پائے گئے ۔  اس وقت کسی کےخلاف قانونی کاروائی تو نہیں ہوئی پر اس کمپنی کے کئی ملازمین برطرف کردئیے گئے اور متعلقہ ڈسٹری بیوٹر کو بھی اپنی ڈسٹریبیوٹر شپ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

اس بات کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا چین نے درحقیقت امریکی چپ استعمال کی ہیں ۔۔اگر ایسا ہوا ہے تب بھی چین کا یہ کارنامہ بالکل اسی طرح ہے جیسے پاکستان نے دنیا بھر کی پابندیوں کا سامنا و مقابلہ کرتے ہوئے ایٹم بم بنایا تھا۔

اس صورتحال میں اپنی ضرورت کے لیے ٹیکنالوجی ، آلات و پززہ جات حاصل کرنا چوری  نہیں کارنامہ کہلاتا ہے۔۔دنیا بھر ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل کبھی نہیں رُکتا ۔۔ اگر کوئی علم چھپائے تو ملکی قومی مفاد میں اس علم کو چُرانا بھی فرض  ہوتا ہے۔ ( یہ الگ بات ہے کہ ان معاملات میں کسی کا مجرم کسی کا ہیرو ہوتا ہے)

چین نے امریکی پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے یہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔۔ یقیناً چپ کی فراہمی میں پابندیوں کی وجہ سے اس کے مکمل فوائد حاصل کرنے میں ان کی محدودات آڑے آئیں گی۔

چین میں سیمی کنڈکٹر  چپ مینو فیکچرنگ کی فیکٹریاں موجود ہیں چاہے  وہ ٹیکنا لوجی میں کتنے بھی پیچھے ہوں لیکن آگے  بڑھنے کی بنیاد ان کے پاس موجود ہے۔۔  اس میں کوئی شک نہیں جلد یا بدیر چین بھی یہ چپ بنانے کے قابل ہو جائے گا۔

دلچسپ  بات یہ ہے کہ ‏Nvidia   کا چیف ایگزیکٹو آفسر بھی تائیوانی نژاد چینی النسل جینسن ہوانگ ہے۔۔ اس طرح کے نہ جانے کتنے جوہر قابل امریکہ میں  حساس مقامات پر موجود ہیں ۔۔ کیا  پتہ وہاں سے  چین کو بھی کوئی  ڈاکٹر عبدالقدیر خان  مل جائے  جو پہلے سے موجود بنیاد کو نئی بلندیوں تک پہنچا دے۔

 بیسویں صدی کی ابتدا میں امریکہ صنعتی انقلاب کی ابتدا ہی  برطانوی و یورپی ٹیکنالوجی کی چوری سے ہوئی تھی ۔ حالیہ دور میں   تیز رفتاری سے ترقی پذیر معیشت چین بھی اسی مرحلے سے گُذر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ بھارت، چین، روس، جنوبی کوریا اور جاپان  یہ تمام ممالک ہی  اپنی صنعتی ترقی کے ابتدائی دور میں  ٹیکنالوجی کی چوری کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں