’’فی الحال انتخابی سیاست کا کوئی ارادہ نہیں‘‘، کاکروچ جنتا پارٹی کا نوجوانوں کی تحریک جاری رکھنے کا اعلان

بھارت کی جنریشن زی سے جڑی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا ہے کہ ان کی تحریک کا فی الحال انتخابی سیاست میں داخل ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تنظیم پہلے نوجوانوں سے مشاورت کر کے ان مسائل کا تعین کرے گی جنہیں مستقبل کے ایجنڈے میں شامل کیا جانا چاہیے۔

ابھیجیت دیپکے نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف نئی دہلی میں شروع ہونے والے احتجاج کی قیادت کی تھی، جو بعد میں ملک کے مختلف حصوں تک پھیل گیا۔ اس تحریک نے نوجوانوں میں بے روزگاری، امتحانی نظام اور اداروں پر کم ہوتے اعتماد جیسے مسائل کو نمایاں کیا، جبکہ احتجاج کے بعد بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے 25 جولائی کو استعفیٰ دے دیا۔

دیپکے کے مطابق ان کے حامی بدھ سے دو روزہ اجلاس منعقد کریں گے، جس میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا آئندہ ایجنڈا طے کرنے اور اس سماجی تحریک کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں عوام کی اکثریت سیاسی جماعت بنانے کا مطالبہ کرتی ہے تو اس امکان پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن فوری طور پر انتخابات میں حصہ لینا ترجیح نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اس وقت نئی سیاسی جماعت سے زیادہ ایک ایسی عوامی تحریک کی ضرورت ہے جو ملکی اداروں میں اعتماد اور جواب دہی بحال کرنے کے لیے کام کرے۔ انہوں نے کسی موجودہ سیاسی جماعت کی حمایت کا امکان بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کی توجہ نوجوانوں کے مسائل اور ان کی آواز کو نمایاں کرنے پر رہے گی۔

36 روزہ احتجاج کے بعد دیپکے اپنے آبائی شہر چھترپتی سمبھاجی نگر واپس پہنچے، جہاں سینکڑوں حامیوں نے ان کا استقبال کیا۔ امریکا سے تعلیم مکمل کر کے جون میں بھارت واپس آنے والے دیپکے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کی اپیل کے بعد تیزی سے مقبول ہوئے اور ان کی تحریک نے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو متحرک کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں