چین نے حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے کئی بڑے منصوبے شروع کیے ہیں اور جلد ہی وہ چاند پر انسانی مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اب چینی سائنسدانوں نے چاند کے اس حصے پر ریڈیو ٹیلی اسکوپ لگانے کا منصوبہ پیش کیا ہے جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
چینی میڈیا کے مطابق یہ ریڈیو ٹیلی اسکوپ 2030 کی دہائی میں مکمل کی جائے گی۔ یہ ایک خاص ڈیزائن کی حامل ہوگی، جس میں تتلی کی ساخت کے 7200 وائر انٹینے شامل ہوں گے، جو 30 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوں گے۔
چاند پر ہونے کی وجہ سے یہ ٹیلی اسکوپ کہکشاؤں، بلیک ہولز اور دیگر فلکیاتی اجسام کے ریڈیو سگنلز کو زیادہ واضح طور پر وصول کر سکے گی، جس سے کائنات کے مختلف رازوں کو جاننے میں مدد ملے گی۔
چین اس ٹیلی اسکوپ کی تعمیر کو اپنے "چینگ ای” مشنز کے ذریعے انجام دے گا۔ چینگ ای 7 کو 2026 اور چینگ ای 8 کو 2028 میں چاند پر بھیجا جائے گا، جو اس منصوبے کے ابتدائی مراحل کا حصہ ہوں گے۔
یہ منصوبہ مختلف مراحل میں مکمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں 3 سال کے دوران 16 انٹینے اور ضروری آلات نصب کیے جائیں گے، جس کے لیے چینگ ای کے لینڈرز کا استعمال کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں خلا باز 3 سے 5 سال کے اندر باقی تعمیر مکمل کریں گے، اور آخری مرحلے میں تمام انٹینے نصب کر دیے جائیں گے۔
یہ منصوبہ چین کو ایسے نئے سیارے دریافت کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے جو انسانی رہائش کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں، جبکہ کائنات کی ابتدا کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ رپورٹ کے مطابق جب یہ منصوبہ مکمل ہوگا تو چاند پر چین کی ایک تحقیقی بیس بھی قائم ہو چکی ہوگی۔