چین کی حکومت نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی، یو این ایف پی اے کے تعاون سے پاکستان کو تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق 20 لاکھ ڈالر مالیت کا سامان اور طبی آلات فراہم کیے ہیں۔
یہ سامان ملک کے 10 پسماندہ اضلاع میں ماں اور نومولود بچوں کی صحت کی خدمات بہتر بنانے اور خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں تک رسائی بڑھانے کے لیے دیا گیا ہے۔
سامان کی حوالگی کی تقریب اسلام آباد کے دیہی مرکزِ صحت ترلائی میں منعقد ہوئی، جہاں یہ طبی آلات وزارت قومی صحت، ضوابط و رابطہ کے حوالے کیے گئے۔ وزیر مملکت برائے قومی صحت ملک مختار احمد بھرتھ نے چین کے سفارت خانے کے سیکنڈ سیکریٹری ژانگ داتُو سے یہ سامان وصول کیا۔
تقریب میں یو این ایف پی اے پاکستان کی نائب نمائندہ ڈاکٹر گلنارا قادرکولووا، پاپولیشن پروگرام ونگ کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شبانہ سلیم اور اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر سیدہ راشدہ بتول بھی موجود تھیں۔
فراہم کیے گئے سامان میں تولیدی صحت اور دائیوں کے لیے طبی کٹس، دو راڈ والے مانع حمل امپلانٹس، محفوظ زچگی کی کٹس اور نومولود بچوں کے لیے کٹس شامل ہیں۔ یہ سامان زچگی، نومولود بچوں اور تولیدی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کے مزید اختیارات فراہم کرنے میں مدد دے گا۔
اس منصوبے سے بلوچستان کے کیچ، لورالائی اور خضدار، سندھ کے حیدرآباد، پنجاب کے رحیم یار خان اور قصور، خیبر پختونخوا کے چارسدہ، گلگت بلتستان کے گلگت اور آزاد جموں و کشمیر کے کوٹلی سمیت 10 پسماندہ اضلاع مستفید ہوں گے۔
توقع ہے کہ اس منصوبے سے تولیدی عمر کی تین لاکھ سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ضروری طبی سامان کی فراہمی کے ساتھ صحت کے کارکنوں کو خصوصی تربیت بھی دی جائے گی، تاکہ تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ژانگ داتُو نے گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو اور ساؤتھ ساؤتھ کوآپریشن پروگرام کے تحت پاکستان میں زچگی کی صحت بہتر بنانے اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات تک رسائی بڑھانے کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں خواتین، خاندانوں اور کمزور طبقات کے لیے چین کی مسلسل حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔