پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ، 21 جولائی کو چلاس میں آنے والے شدید سیلابی ریلے کے نتیجے میں بہہ جانے والے افراد میں سے پندرہ تاحال لاپتہ ہیں۔ ان لاپتہ افراد میں ایک نجی ٹی وی چینل کی اینکر شبانہ لیاقت اور ان کا اہلخانہ بھی شامل ہے، جن کے بارے میں تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان، فیض اللہ فراق نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ، سرچ آپریشن کے دوران امدادی کارکنوں کو ایک بٹوہ ملا ہے جس میں شبانہ لیاقت اور ان کے بیٹے کے شناختی کارڈز اور کچھ رقم موجود تھی۔ اس دریافت کے بعد امدادی اداروں نے تلاش کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
فیض اللہ فراق کے مطابق، چینل انتظامیہ نے حکومت سے رابطہ کیا ہے، تاہم لاپتہ خاندان کے کسی فرد نے تاحال حکام سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ترجمان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ، شبانہ لیاقت اور ان کے اہلخانہ سمیت تمام لاپتہ سیاحوں کی تلاش جاری ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ، ملبے کے وسیع ڈھیر اور دشوار گزار علاقوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، اب تک چلاس میں آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مجموعی طور پر گلگت بلتستان بھر میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔