سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے کہ جنگ ایک ہنڈولے (جھولے ) کی طرح ہے جو کبھی اوپر جاتا ہے اور کبھی نیچے آتا ہے۔ یہ بات آپ نے سیدنا عمر کو تب کہی تھی جب وہ خلیفہ کی حیثیت سے دور دراز جانے والے لشکر کی قیادت کرنا چاہتے ہیں۔ باب العلم کے مشورے کا مقصد یہی تھا کہ جنگ کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے، بطور خلیفہ المسلمین آپ کو یہ رسک نہیں لینا چاہیے۔ یہ مشورہ مان لیا گیا۔
اللہ کے فضل وکرم اور افواج پاکستان کی غیر معمولی شجاعت، مہارت اور دلیری کے باعث پاک بھارت جنگ کا ہنڈولا پاکستان کے حق میں گیا۔ ہم نے نہ صرف بھارتی طیارے تباہ کر کے پہلا راونڈ جیتا اور پھر آپریشن بنیان المرصوص میں تو کمال ہی ہوگیا۔ انڈین ڈیفنس سسٹم پاش پاش ہوگیا، ان کے بہت سے ائیربیسز پر اٹیک ہوئے، ان کی فضائیہ اور دفاعی نظام گویا مفلوج ہوگیا۔ یہ بڑی شاندار کامیابی تھی۔ بھارتی عسکری قوت اس اٹیک سے گویا شل سی ہو کر رہ گئی، انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیا توڑ کیا جائے ۔ مختلف ویڈیو کلپس میں بھارتی ریٹائر آرمی افسران اور دفاعی ماہرین جس طرح شرمندہ، پریشان اور فرسٹریٹڈ نظر آ رہے ہیں اس کی کوئی مثال پہلے ہم نے نہیں دیکھی۔ اب وہ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح جلدی سے امریکہ سے ایف پینتیس لیا جائے جو کہ ففتھ جنریشن طیارہ ہے۔ یہ اور بات کہ جب وہ انڈیا کے پاس آئے گا، پاکستان پہلے ہی ففتھ جنریشن چینی طیارہ لے چکا ہوگا۔
خیر کہنا یہ تھا کہ پاکستان نے اپنی ڈیٹرنس ثابت کر دی۔ اپنی برتری بھی شو کر دی اور بھارتی رعونت، تکبر، طنطنے کو بڑا دھچکا پہنچایا۔ میں سی این این، الجزیرہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس دیکھتا، پڑھتا رہا ہوں، سب نے پاکستانی فوج کی کارکردگی اور برتری کو تسلیم کیا۔ گویا ہم نے اپنی عسکری مہارت اور حربی برتری ثابت کر دی۔
اب اگلا مرحلہ یہی تھا کہ بھارت حملہ کرے اور پھر پاکستان کے جوابی حملے کے بعد معاملہ فل سکیل وار پر چلا جائے۔ یہ پاکستان کو سوٹ نہیں کرتا۔ ہر ملک اپنی قوت اور اپنے حساب کتاب سے جنگ لڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کو یہی سوٹ کرتا ہے کہ فل سکیل وار سے اس وقت بچے۔ کل کو پاکستانی اکانومی اتنی تگڑی ہوجائے کہ ہم تین چار ہفتے کی بڑی جنگ کا بوجھ اٹھا سکیں تو پھر بڑی فل سکیل وار بھی لڑ لیں گے۔
اس وقت جنگ بندی ہی بہترین آپشن تھی۔ ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے تھا اور ویسا ہی کیا گیا۔ بدقسمتی سے ایک حلقہ سوشل میڈیا پر جنگ بندی کے خلاف پوسٹیں اور کمنٹس وغیرہ کر رہا ہے۔ بنیادی طور پر اس کی وجوہات سیاسی ہیں، مگر یہ دانشمندی نہیں۔ پاک افواج کی کامیابی پورے پاکستان اور ہر پاکستانی کی کامیابی ہے۔ اس لئے کسی کو مضطرب یاناخوش ہونے کی قطعی ضرورت نہیں۔
باقی جنگ میں نقصان ہوتے ہیں، ہمارے شاہینوں نے جو اہداف ہٹ کئے اور بے شمار پوسٹیں،بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کئے، ائیر بیس اڑادئیے، کیا ان میں بھارتی فوجی نہیں مارے گئے؟ انڈیا کا جانی نقصان پاکستان سے پچاس سو گنا زیادہ ہوا ہے۔ جنگ بندی سے تھوڑا پہلے سندھ میں بولاری بیس پر حملے میں ہمارے چند جانباز شہید ہوئے۔ یہ بڑا نقصان ہے مگر مجموعی طور پر پاکستان نے یہ جنگ ستر تیس یا اسی بیس کے تناسب سے جیتی۔ اس پر خوش ہونا چاہئیے۔
بی بی سی جنوبی ایشیا کے ریجنل ایڈیٹر ممتاز برطانوی صحافی اینبرسن اتھرجان نےبجا طور پر کہا ہےکہ بھارت کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ پاکستان کی فضائی طاقت بھارت سے زیادہ ہے۔اینبرسن اتھرجان کے مطابق بھارت نے اربوں ڈالرزکا اسلحہ خریدا تھا اس کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
جنگ بندی پر اگر اپوزیشن جماعت کے سیاسی کارکن تنقید کریں گے تو یہ ایک کمزور اور تھکا ہوا موقف ہو گا۔ درست کام کی مخالفت نہیں بنتی۔
اللہ پاک نے کرم کیا، پاکستان کا بھرم رہ گیا اور وہ فاتح کے طور پر سیز فائر ٹیبل پر آئے۔ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا تھا؟ البتہ پاکستان کو مستقبل کے لئے اپنے آپ کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، چین سے مزید جدید ہتھیار لئے جائیں ،ففتھ جنریشن فائٹر طیارے، اپ ڈیٹڈ اینٹی میزائل سسٹم، اینٹی ڈرون گنیں، جدید اواکس وغیرہ۔ہمارے ماہرین اورمنصوبہ ساز یقینی طور پر یہ چیزیں دیکھ رہے ہوں گے۔