کینیڈا کی لبرل پارٹی نے جسٹن ٹروڈو کی جگہ مارک کارنے کو وزیراعظم کے عہدے کے لئے منتخب کر لیا ہے، وہ جلد کینیڈا کے نئے وزیراعظم ہوں گے۔ انسٹھ سالہ مارک کارنے سابق بینکر ہیں، عالمی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مارک کارنے نے امریکی صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے موجودہ امریکی صدر پر کینیڈین کارکنوں، فیملیز اور کاروبار پر حملوں کے الزامات لگائے ہیں۔
پارٹی کی جانب سے منتخب ہونے کے بعد مارک کارنے نے اوٹاوا میں اپنی تقریر میں واضح الفاظ میں امریکہ کو خبردار کیا اور کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کےذریعے کینیڈا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی ہمارے وسائل ہمارے پانی، سرزمین اور ملک حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ سیاہ دن ہمارے اوپر جس ملک نے مسلط کیے ہیں ہم اس پر مزید اعتبار نہیں کر سکتے۔‘
واضح رہے کہ مارک کارنے بینک آف کینیڈا اور بینک آف انگلینڈ میں اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں اور وزارت عظمیٰ کے لیے ہونے والے ووٹوں میں انہوں نے کرسٹیا فری لینڈ کو واضح اکثریت سے شکست دی جو کہ جسٹن ٹروڈو کے دور میں ڈپٹی وزیر اعظم یسمیت کابینہ میں دیگر کئی اہم عہدوں پر بھی کام کر چکی ہیں۔
مارک کارنے 85 اعشاریہ 9 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ کرسٹیا فری لینڈ کے حصے میں صرف آٹھ فیصد ووٹ آئے۔مارک کارنے نے اس نکتے پر اپنی مہم چلائی تھی کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہوں گے۔