کینیڈا نے پاکستان کے لیے 47 ملین ڈالر سے زائد سکیورٹی اور ترقیاتی امداد کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کے ایک روزہ دورہ پاکستان کے دوران اس منصوبے کا اعلان کیا گیا، جو تقریباً 20 سال بعد کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
اس دوران پاکستان اور کینیڈا نے ٹریڈ، سرمایہ کاری، سکیورٹی اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں انیتا آنند کے ساتھ مشترکہ بریفنگ میں کہا کہ دونوں ممالک اس دورے سے پیدا ہونے والی رفتار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کینیڈین کمپنیوں کو تعلیم، توانائی، کان کنی، اہم معدنیات، زراعت، انفراسٹرکچر اور آئی ٹی سمیت ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق دونوں ممالک نے تعلیم، لیبر موبیلٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، قونصلر امور اور عوامی روابط پر بھی بات چیت کی۔
دونوں فریقین نے افغانستان کی صورتحال اور انسداد دہشت گردی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے سفارتی تعلقات کو 80 سال ہو چکے ہیں اور اب دونوں ممالک کو ٹریڈ، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور فروغ کے معاہدے، ایف آئی پی پی اے، کو جلد مکمل کرنے کے لیے کام تیز کریں گی۔
انیتا آنند کے مطابق اس معاہدے سے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری کے لیے زیادہ اعتماد اور تحفظ ملے گا۔
کینیڈا نے پاکستان میں 3 سکیورٹی تعاون کے منصوبوں کے لیے 2.2 ملین ڈالر سے زائد فنڈنگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان منصوبوں میں بارڈر مینجمنٹ، انسداد دہشت گردی، مالی جرائم کی تحقیقات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت شامل ہوگی۔ یہ تعاون انٹرپول، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے ذریعے کیا جائے گا۔
کینیڈا نے پاکستان کے لیے 45 ملین ڈالر کی نئی ترقیاتی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ رقم موسمیاتی اثرات سے نمٹنے، لڑکیوں کی تعلیم، تولیدی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور سیلاب سے بحالی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ یہ منصوبے آغا خان فاؤنڈیشن کینیڈا، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے تعاون سے آگے بڑھائے جائیں گے۔
اس دوران انیتا آنند نے پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا خطے میں کشیدگی، شہری انفراسٹرکچر پر حملوں اور سمندری سکیورٹی کو لاحق خطرات پر تشویش رکھتا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی حل کی طرف بڑھیں۔
بریفنگ کے دوران اسحاق ڈار نے مسئلہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کا اعلان کر کے خطے کی نازک صورتحال میں نئی پیچیدگی پیدا کی ہے۔ اسحاق ڈار نے کینیڈا سمیت دوست ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی، پانی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے اور عالمی قوانین کی پاسداری کے لیے کردار ادا کریں۔
دورے کے دوران کینیڈین کینولا کی پاکستان درآمد سے متعلق ایک پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر دستاویز پر دستخط کی تقریب دیکھی، جبکہ معاہدے پر اسحاق ڈار اور انیتا آنند نے دستخط کیے۔ انیتا آنند نے بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان نے کینیڈا سے 4 لاکھ 70 ہزار ٹن سے زائد کینولا درآمد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا پاکستانی مصنوعات، خاص طور پر چاول، ٹیکسٹائل اور کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں اضافے کا بھی خواہاں ہے۔
کینیڈین وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں زراعت، کان کنی، توانائی، آٹو موبائل اور آٹو پارٹس کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ دونوں فریقین نے ٹریڈ اور معدنیات کے شعبے میں وفود کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔
کینیڈین کمپنیوں کی پاکستان میں موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے انیتا آنند نے 240 میگا واٹ کے دھابیجی ہائبرڈ ونڈ اینڈ سولر منصوبے اور ریکوڈک منصوبے میں بیرک کی سرمایہ کاری کو اہم مثال قرار دیا۔
انیتا آنند نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی ملاقات کی، جس میں ٹریڈ، سکیورٹی تعاون، مائیگریشن مینجمنٹ اور ادارہ جاتی تعاون پر بات ہوئی۔
ک
ینیڈین وزیر خارجہ نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں عالمی امن، علاقائی استحکام اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز پر تعاون کی ضرورت پر بات ہوئی۔
انیتا آنند نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہا۔