آپ نے عام طور سے سنا ہوگا کہ ترکش کافی پینے والے کے کپ کی تہہ کو دیکھ کر اس کے مستقبل کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے، ظاہر ہے یہ کام ایک ماہر ہی کر سکے گا، مگر کیا واقعی ایسا ہوتا ہے ؟
سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ترکش کافی ہے کیا ، دوسری کافی قسموں سے یہ کس قدر مختلف ہے ؟
ترکش یا ترک کافی
ترکش کافی عموماً ایک چھوٹے کپ میں پیش کی جاتی ہے جس کی گنجائش تقریباً دو اونس (ساٹھ ملی لیٹر)ہوتی ہے۔ اس کا ظاہری انداز ایسپریسو سے ملتا جلتا ہو سکتا ہے، لیکن ایسپریسو کے برعکس جسے زیادہ دباؤ کے تحت بنایا جاتا ہے، ترکش کافی باریک پیسی ہوئی کافی کو ایک خاص برتن یعنی جزوے میں اُبال کر تیار کی جاتی ہے۔ جزوہ (جسے دیگر ممالک جیسے فلسطین میں “ابریک” بھی کہا جاتا ہے) ایک چھوٹا برتن ہوتا ہے جس میں عام طور پر ۱۰ سے ۱۵ اونس تک پانی آتا ہے اور اس کا ہینڈل لمبا ہوتا ہے۔
عموماً ترکش کافی جزوے میں تین مرتبہ اُبال کر تیار کی جاتی ہے۔ ہر اُبال کے بعد کافی کا ایک چھوٹا سا حصہ کپ میں نکالا جاتا ہے۔ جزوے کو پھر چولہے پر رکھا جاتا ہے اور اس عمل کو دہرایا جاتا ہے یہاں تک کہ کپ بھر جائے۔ بار بار اُبالنے کے عمل سے کافی گاڑھی، جھاگ دار اور خوشبودار ہو جاتی ہے جو ترکش کافی کی خاص پہچان ہے۔
ترکش کافی کا پیسنا اور استعمال
ترکش کافی کو خاص قسم کے روایتی ترکش کافی گرائنڈر میں پیسا جاتا ہے کیونکہ اس کا باریک پن عام گرائنڈر سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر تجارتی گرائنڈر اتنی باریکی سے کافی پیسنے سے قاصر ہوتے ہیں، اس لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے سے پیسی ہوئی ترکش کافی خریدیں۔
ترکش کافی بنانے کا طریقہ
روایتی طور پر، باریک پیسی ہوئی ترکش کافی کو جزوے میں پانی کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ آپ اپنی پسند کے مطابق اس میں چینی بھی شامل کر سکتے ہیں۔ جزوے کو ہلکی یا درمیانی آنچ پر کھلی آگ پر اُبالا جاتا ہے، عام طور پر تین مرتبہ۔ پہلی اُبال پر کافی کے اوپر جھاگ بنتی ہے (جیسا کہ دیگر کافی مشروبات میں کریما دیکھا جاتا ہے)۔ یہ جھاگ ترکش کافی کی جان ہوتی ہے کیونکہ یہی اسے منفرد اور جھاگ دار بناتی ہے۔ کچھ روایات میں کہا جاتا ہے کہ اس جھاگ کو چمچ کی مدد سے کپ میں نکالا جائے۔ ورنہ جزوے سے تھوڑا تھوڑا کر کے جھاگ سمیت کافی کو کپ میں ڈالا جاتا ہے۔ ہر بار کافی نکالنے کے بعد جزوے کو دوبارہ چولہے پر رکھا جاتا ہے اور اُبالنے کا عمل دہرایا جاتا ہے جب تک کپ بھر نہ جائے۔
یاد رکھیں کہ ترکش کافی کی ابتدا 16ویں صدی کے عثمانی سلطنت سے ہوئی ہے، یہ کافی ثقافت سے جڑی ہوئی ہے۔ اسے اپنے دل اور تجربے کے ساتھ بنانا چاہئے جیسے دادی اماں کے ہاتھ کی بنی ہوئی روایتی خوراک۔
ترکش کافی اور قسمت جاننے کی روایت
ممکن ہے آپ اس قسم کی رسومات کو زیادہ اہمیت نہ دیں، لیکن جاننے کے لیے عرض ہے کہ ترکش کافی کے ختم ہونے کے بعد کپ کو اُلٹا کر اس کی تہہ میں رہ جانے والی کافی کے رس اور تلچھٹ کو ایک ماہر پڑھ کر آپ کی قسمت بیان کرتا ہے۔ بظاہر وہ چند قطرے بہت کچھ بتاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایسی بہت سی پیش گوئیاں درست بھی نکلتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ پاکستان کے بعض بلوچ قبائل جیسے بگٹی بلوچوں میں جس بکرے سے سجی بنائی جاتی ہے، اس کے شانے کی ہڈی دیکھ کر کوئی بزرگ ماہر قبیلے کے مستقبل کے بارے میں یا حالات کے حوالے سے کئی پیش گوئیاں کرتا ہے جو کہ بہت بار درست بھی نکل آتی ہے۔ ترک یہ کہتے ہیں کہ ترکش کافی کے بعد مستقبل جاننے کا کام تجربہ کار اور ماہر شخص سے کروانا ضروری ہے، اپنی خود کی قسمت پڑھنے کی کوشش نہ کریں۔
یہ روایت ترکش کافی کو سماجی اور اشتراکی ثقافت کی علامت بناتی ہے، جسے مل کر پینا اور اس کے بعد بات چیت کرنا خاص طور پر پسند کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی سائنسی عمل نہیں بلکہ ایک خوشگوار روایتی سرگرمی ہے۔