سونے سے پہلے دل کی دھڑکن چیک کرنا اس بات کا اندازہ دینے میں مددگار ہو سکتا ہے کہ جسم کتنا پرسکون اور نیند کے لیے تیار ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف دل کی دھڑکن کی بنیاد پر یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ رات کی نیند اچھی ہوگی یا خراب۔ صحت اور طویل عمر سے متعلق معروف شخصیت برائن جانسن کا کہنا ہے کہ وہ سونے سے پہلے اپنی دل کی دھڑکن دیکھتے ہیں اور اسے اپنی نیند اور مجموعی صحت کا ایک اہم اشارہ سمجھتے ہیں۔
آرام کی حالت میں دل کی دھڑکن کو عمومی طور پر دل کی صحت اور جسمانی فٹنس کا ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر صحت مند بالغ افراد میں آرام کے دوران دل کی دھڑکن 60 سے 100 فی منٹ کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ انتہائی فٹ ایتھلیٹس میں یہ شرح تقریباً 40 دھڑکن فی منٹ تک بھی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دل کی دھڑکن پورے دن مختلف عوامل کے باعث تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ذہنی دباؤ، کیفین، بعض ادویات، الکحل اور بیماری دل کی رفتار بڑھا سکتے ہیں، جبکہ آرام اور سکون کی تکنیکیں اسے کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ سونے سے پہلے دل کی دھڑکن نسبتاً کم ہونا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ جسم آرام کی حالت میں داخل ہو رہا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کم دل کی دھڑکن اچھی نیند کی ضمانت نہیں۔ ییل یونیورسٹی کے سلیپ میڈیسن پروگرام کے ڈائریکٹر ہنری یگی کے مطابق آرام کی حالت میں دل کی دھڑکن کو نیند کے معیار کی پیش گوئی کے بجائے جسم کی سونے کے لیے تیاری کے ایک اشارے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
رات کو الکحل پینا یا سونے کے بہت قریب کھانا کھانا ایسی چیزیں ہیں جو ایک ہی وقت میں دل کی دھڑکن بھی بڑھا سکتی ہیں اور نیند بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اسی لیے زیادہ دل کی دھڑکن لازمی طور پر خراب نیند کی وجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ کسی ایسے دوسرے عامل کی علامت ہو سکتی ہے جو نیند اور دل کی رفتار دونوں کو متاثر کر رہا ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دن بھر کی جسمانی سرگرمی، ذہنی دباؤ کی سطح، سونے سے پہلے سکون محسوس کرنا اور صبح اٹھنے کے بعد تازگی محسوس ہونا بھی نیند کے معیار کے اہم اشارے ہیں۔ اگر کوئی شخص صبح تازہ دم محسوس کرے اور روزمرہ کے کام معمول کے مطابق انجام دے سکے تو اسے اچھی نیند کی ایک اہم علامت سمجھا جا سکتا ہے۔
سونے سے پہلے بار بار دل کی دھڑکن یا سلیپ ٹریکر کا ڈیٹا دیکھنا بعض افراد کے لیے الٹا مسئلہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پہننے والے ڈیجیٹل آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث کچھ لوگ اپنی نیند کے اعداد و شمار کے بارے میں ضرورت سے زیادہ فکرمند ہو جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو بعض ماہرین “آرتھوسومنیا” کہتے ہیں، جس میں انسان بہترین نیند حاصل کرنے کی کوشش میں خود اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔