پراڈ پیک؛ نرمل پرجا سمیت 7 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد، 3 کی تلاش جاری

پاکستان میں امدادی ٹیموں نے براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آنے والے 7 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کر لی ہیں، جن میں معروف نیپالی نژاد برطانوی کوہ پیما نرمل پرجا بھی شامل ہیں۔

تین روز قبل برفانی تودے نے 10 رکنی بین الاقوامی کوہ پیمائی ٹیم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ باقی تین کوہ پیماؤں کی لاشوں کی تلاش جاری ہے، جن میں ایک پاکستانی گائیڈ بھی شامل ہے۔

برفانی تودہ جمعرات کو دوپہر کے قریب پاکستان کے سلسلہ کوہ قراقرم میں واقع 8,051 میٹر بلند براڈ پیک پر گرا۔ براڈ پیک دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ نرمل پرجا کی موت کی تصدیق ان کی کوہ پیمائی کمپنی نے ہفتے کو کی تھی۔

نرمل پرجا کون تھے؟
43 سالہ نرمل پرجا ’نمس دائی‘ کے نام سے بھی مشہور تھے۔ وہ سابق گورکھا فوجی تھے اور بعد میں برطانوی فوج کی سپیشل فورسز کا حصہ بنے۔ انہوں نے 2019 میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو 189 دن میں سر کر کے عالمی شہرت حاصل کی تھی۔ بعد میں ان کی اس کامیابی پر نیٹ فلکس کی ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی۔ ان کا یہ ریکارڈ 2023 میں ٹوٹ گیا تھا۔

امدادی ٹیموں نے جمعے کو چار لاشیں تلاش کی تھیں، تاہم خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر پرواز نہ کر سکے اور صرف تین لاشیں نیچے لائی جا سکیں۔ ان میں نیپالی کوہ پیما پور بہادر گرونگ، جنہیں یکتا کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، عمانی کوہ پیما نادیرہ الحارثی اور امریکی کوہ پیما میلوری گیس شامل تھے۔ اتوار کو زمینی امدادی ٹیم نرمل پرجا اور تین دیگر کوہ پیماؤں تک پہنچی۔ ان میں چینی کوہ پیما وانگ ژونگ اور نیپالی کوہ پیما نیما شرپا اور کیلی پیمبا شرپا شامل تھے۔

اب بھی لاپتہ افراد میں پاکستانی گائیڈ اور فوٹوگرافر سہیل سخی اور دو دیگر کوہ پیما شامل ہیں۔ سہیل سخی نے اس مہم کے بعد کوہ پیمائی کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے ریٹائر ہونے کا ارادہ کیا تھا۔

نرمل پرجا اور دیگر کوہ پیماؤں کو دنیا بھر سے خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے کہا کہ کوہ پیماؤں کا حوصلہ، لگن اور خدمات ہمیشہ لوگوں کے لیے باعث تحریک رہیں گی۔

نرمل پرجا کی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈ نے انہیں ایسا رہنما قرار دیا جس نے اپنے حوصلے اور عاجزی سے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ نرمل پرجا نے 2021 میں پاکستانی چوٹی کے ٹو کو سردیوں میں پہلی بار سر کرنے والی مکمل نیپالی ٹیم میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

اتوار کو نیپال کے ضلع چتوان میں سمال ہیون سکول کے طلبہ اور اساتذہ نے نرمل پرجا کی تصویر کے سامنے شمعیں روشن کیں اور پھول رکھے۔ رمل پرجا نے گورکھا فوج میں شامل ہونے سے قبل آٹھ سال تک اسی سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں