بلوچستان کے ضلع کیچ کے شہر تربت میں رواں ہفتے اغوا کیے گئے 7 مزدوروں میں سے باقی 6 کی لاشیں جمعرات کو گولیوں کے زخموں کے ساتھ برآمد ہوئی ہیں۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے ترجمان بابر یوسفزئی نے ملکی میڈیا کو بتایا کہ منگل کو نامعلوم مسلح افراد نے ضلع کیچ کے علاقے کلاتک میں تربت مند روڈ کو بند کر کے ایک گاڑی میں سفر کرنے والے 7 مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا۔
بابر یوسفزئی کے مطابق اغوا کار مزدوروں کو نامعلوم مقام پر لے گئے تھے، جہاں اغوا کے کچھ دیر بعد ایک مزدور کو قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں باقی 6 مزدوروں کو بھی قتل کر دیا گیا اور ان کی لاشیں تربت کے علاقے ناصرآباد سے برآمد ہوئیں۔
ترجمان کے مطابق لاشوں پر تشدد کے نشانات اور گولیوں کے زخم موجود تھے، جبکہ بظاہر مزدوروں کو قریب سے گولیاں ماری گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں چار کا تعلق پنجاب اور دو کا خیبر پختونخوا سے تھا۔
یہ مزدور ضلع کیچ میں ایک ترقیاتی منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ ان کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے تربت کے ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 6 مزدوروں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کا الزام ان گروہوں پر عائد کیا جنہیں ریاست ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دیتی ہے۔ سوگوار خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو قتل کر کے بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا۔
انہوں نے اس واقعے کو بلوچستان کی ترقی اور عوام کے روزگار پر حملہ قرار دیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ 6 غیر مقامی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی جون کے آغاز میں جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق دو ماہ تک بہتری کے بعد مئی میں پاکستان کی سکیورٹی صورتحال دوبارہ خراب ہوئی، جس کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق مئی میں بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا، جہاں دہشت گردی کے 71 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ اپریل میں یہ تعداد 34 تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مئی کے دوران ملک بھر میں اغوا کے 54 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 52 صرف بلوچستان میں پیش آئے۔