‘بنگال کی تقدیر میں ایک نیا باب شامل ہو گیا’، مغربی بنگال میں بی جے پی کامیاب، ممتا بینرجی کا دھاندلی کا الزام

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھارت کی اہم ریاست مغربی بنگال میں تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

بھارت کے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق 294 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کم از کم 124 نشستیں جیت چکی ہے جبکہ درجنوں دیگر نشستوں پر بھی اسے برتری حاصل ہے۔

مغربی بنگال میں اب تک ممتا بینرجی کی جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس کی حکومت تھی۔ ممتا بینرجی 2011 سے ریاست کی وزیرِ اعلیٰ تھیں اور انہیں مودی کے بڑے سیاسی ناقدین میں شمار کیا جاتا ہے۔

ممتا بینرجی نے الزام عائد کیا کہ ‘بے جی پے نے 100 نشسیں لوٹیں ہیں’ ۔ اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ممتا بینرجی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم ممتا جی کےساتھ ہیں، 100 نشستیں الیکشن کمیشن کی حمایت سے بے جے پی نے چرائی ہیں’۔

انتخابات کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا تھا کہ لاکھوں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے نکال دیے گئے، جس پر سخت تنقید بھی سامنے آئی۔

نتائج کے بعد نئی دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ‘بنگال کی تقدیر میں ایک نیا باب شامل ہو گیا ہے۔’

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، مغربی بنگال میں کامیابی مودی کی سیاسی پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب 2024 کے عام انتخابات کے بعد انہیں حکومت بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں پر انحصار کرنا پڑا تھا۔

دوسری جانب ممتا بینرجی کی شکست کو بھارتی اپوزیشن کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہ مختلف علاقائی جماعتوں کو بی جے پی کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

ادھر جنوبی ریاست تمل ناڈو میں اداکار سے سیاستدان بننے والے جوزف وجے المعروف ‘تھلاپتی وجے’ کی جماعت ٹی وی کے نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکمراں ڈی ایم کے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اسی طرح کیرالہ میں کانگریس کی قیادت والے اتحاد نے بائیں بازو کی حکومت کو شکست دے دی، جبکہ آسام میں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپس آ رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں