پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے سری لنکا کے خلاف سہ ملکی ون ڈے سیریز کے فائنل میں تجربہ کار بلے بازوں بابر اعظم اور فخر زمان سے اچھی کارکردگی کی امید ظاہر کی ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان فائنل ہفتے کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، تاہم پاکستانی اوپننگ بلے بازوں کی مسلسل غیر مستقل کارکردگی ٹیم کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
پاکستان نے مسلسل تین میچ جیت کر فائنل میں جگہ بنائی تھی، لیکن لیگ مرحلے کے آخری میچ میں سری لنکا کے ہاتھوں آٹھ وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مقابلے میں پوری پاکستانی ٹیم صرف 110 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی، جبکہ سری لنکا نے 30 سے زائد اوورز باقی رہتے ہوئے ہدف حاصل کر لیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہا کہ ٹیم نے اپنے اہم بلے بازوں کی نمایاں کارکردگی کے بغیر بھی تین میچ جیتے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی تک پاکستان اپنی بہترین کرکٹ نہیں کھیل سکا اور انہیں امید ہے کہ کھلاڑی فائنل میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کریں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق فخر زمان چار اننگز میں صرف 31 رنز بنا سکے ہیں، جبکہ سابق کپتان بابر اعظم نے چار اننگز میں 118 رنز اسکور کیے ہیں۔ اوپنر صائم ایوب نے تین اننگز میں 21 رنز بنائے، جس کے بعد انہیں اپنی درخواست پر اسکواڈ سے ریلیز کر دیا گیا تاکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی بیٹنگ بہتر بنا سکیں۔
مائیک ہیسن نے بابر اعظم اور فخر زمان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پاکستان کی تاریخ کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور بڑے کھلاڑیوں سے بڑے مقابلوں میں اچھی کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائنل ان دونوں کے لیے میچ وننگ کارکردگی دکھانے کا بہترین موقع ہے۔
پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ نے اب تک ٹیم کو اہم کامیابیاں دلائی ہیں۔ سلمان علی آغا نے سری لنکا کے خلاف پہلے میچ میں 107 رنز بنائے، حسن نواز نے انگلینڈ کے خلاف 79 رنز اسکور کیے، جبکہ شاداب خان نے انگلینڈ کے خلاف ناقابلِ شکست 113 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پاکستان کو ایک وکٹ سے کامیابی دلائی تھی۔ ہیسن نے سلمان علی آغا اور حسن نواز کی کارکردگی کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ بابر اور فخر بھی فائنل میں اپنی فارم بحال کر لیں گے۔