نیتن یاہو غزہ کےمعصوم عوام کودرپیش مشکلات ماننے سے انکاری ہیں، آسٹریلوی وزیراعظم

آسٹریلیا کے وزیراعظم، انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو غزہ میں جنگ کے اثرات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ، پیر کو البانیز نے اعلان کیا تھا کہ، آسٹریلیا ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، تاکہ دو ریاستی حل کی کوششوں میں تیزی لائی جا سکے۔ اس سے قبل برطانیہ، فرانس اور کینیڈا بھی یہ اعلان کر چکے ہیں۔

منگل کو آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے گفتگو میں البانیز نے بتایا کہ، انہوں نے گزشتہ جمعرات کو نیتن یاہو سے بات کی تھی، تاکہ انہیں آسٹریلیا کے فیصلے سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ، ہم نے دیکھا ہے کس طرح امداد روکی جا رہی ہے اور امدادی مراکز پر اموات ہو رہی ہیں، جہاں خوراک اور پانی لینے کے لیے کھڑے لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، جو کہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

البانیز کے مطابق، جب انہوں نے یہ معاملہ نیتن یاہو کے سامنے رکھا تو اسرائیلی وزیراعظم نے اپنا وہی موقف دہرایا جو وہ عوامی سطح پر بھی بیان کر چکے ہیں۔ البانیز کا کہنا تھا کہ، یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ، وہ غزہ کے عام شہریوں کو درپیش مشکلات کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، کابینہ اجلاس کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے البانیز نے کہا کہ، یہ فیصلہ ان وعدوں پر مبنی ہے جو فلسطینی اتھارٹی نے آسٹریلیا کو دیے ہیں، جن میں یقین دہانی شامل ہے کہ، مستقبل کی کسی بھی ریاست میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

پریس کانفرنس میں انتھونی البانیز نے کہا کہ، دو ریاستی حل مشرقِ وسطیٰ میں جاری تشدد کے سلسلے کو توڑنے اور غزہ میں جنگ، مصائب اور بھوک کے خاتمے کے لیے انسانیت کی سب سے بڑی امید ہے۔

ان کے مطابق، مغربی کنارے میں حکومت کرنے والی فلسطینی اتھارٹی نے اتفاق کیا ہے کہ، اسرائیل کے پرامن اور محفوظ وجود کے حق کو دوبارہ تسلیم کیا جائے گا، غیر مسلح ہوکر عام انتخابات کرائے جائیں گے، قیدیوں اور ہلاک شدگان کے خاندانوں کو ادائیگی کے نظام کا خاتمہ کیا جائے گا، گورننس میں وسیع اصلاحات کی جائیں گی، تعلیمی نظام میں مالی شفافیت لائی جائے گی اور بین الاقوامی نگرانی کی اجازت دی جائے گی، تاکہ تشدد اور نفرت کو بھڑکانے سے روکا جا سکے۔

البانیز نے مزید کہا کہ، یہ موقع ہے کہ، فلسطینی عوام کو اس انداز میں حق خود ارادیت دیا جائے جو حماس کو الگ کرے، اسے غیر مسلح بنائے اور ہمیشہ کے لیے خطے سے باہر کرے۔

ان کے بقول، ان وعدوں کو مزید تقویت عرب لیگ کے حالیہ غیر معمولی مطالبے سے ملی ہے، جس میں حماس سے کہا گیا ہے کہ، وہ غزہ میں اپنی حکمرانی ختم کرے اور اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دے۔

اپنا تبصرہ لکھیں