ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پلوٹو سے بھی دور موجود ایک نہایت چھوٹا اور برفانی سیارہ نما جسم ایک باریک فضا رکھتا ہے، جو ممکنہ طور پر آتش فشانی سرگرمی یا کسی دمدار ستارے کے ٹکراؤ سے بنی ہو سکتی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ خلائی جسم تقریباً 500 کلومیٹر چوڑا ہے۔ یہ نظامِ شمسی کا اب تک کا سب سے چھوٹا ایسا جسم ہو سکتا ہے جس کے گرد کششِ ثقل کے باعث قائم عالمی فضا پائی گئی ہو۔
تحقیق کی قیادت جاپان کی نیشنل آسٹرونومیکل آبزرویٹری کے سائنسدان کو آری ماتسو نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے چھوٹے جسم پر فضا کی موجودگی حیران کن ہے اور یہ اس روایتی تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ فضا صرف بڑے سیاروں یا بڑے چاندوں تک محدود ہوتی ہے۔
یہ دریافت نظامِ شمسی کے اُس دور دراز اور سرد خطے کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے جسے کائپر بیلٹ کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے 2024 میں جاپان کی تین دوربینوں کی مدد سے اس جسم کا مشاہدہ کیا، جب یہ ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرا اور اس کی روشنی میں معمولی کمی واقع ہوئی۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق اس فضا میں میتھین، نائٹروجن یا کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسیں شامل ہو سکتی ہیں۔مزید تحقیق، خصوصاً ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعے، اس فضا کی نوعیت کی تصدیق ہوسکتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اگر آنے والے برسوں میں یہ فضا ختم ہو جائے تو اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ یہ کسی ٹکراؤ کے نتیجے میں بنی تھی، جبکہ اگر یہ برقرار رہی یا موسمی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتی رہی تو اس سے زیرِ سطح آتش فشانی سرگرمی کا اشارہ مل سکتا ہے۔