بین الاقوامی فوجداری عدالت نے افغان قیادت کے اعلیٰ رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کیوں جاری کیے؟

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے طالبان کے دو اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان پر افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ہیگ میں قائم اس عالمی عدالت نے کہا ہے کہ، طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی نے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا، اس پر انسانیت سوز جرائم کے شبہ کی معقول بنیادیں موجود ہیں۔

عدالتی بیان کے مطابق، طالبان نے مجموعی طور پر افغان معاشرے پر سخت پابندیاں عائد کیں، مگر ان کی پالیسیوں کا خاص ہدف خواتین اور لڑکیاں رہیں، جنہیں تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ، یہ سلوک بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور صنفی امتیاز پر مبنی ہے۔

واضح رہے کہ، طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد 12 سال سے بڑی عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی تھی اور خواتین کو بیشتر سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں سے بھی روک دیا گیا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیمیں ان اقدامات کو ‘صنفی نسل کشی’ اور ‘منظم ظلم’ قرار دے چکی ہیں۔

ادھر طالبان نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ، وہ آئی سی سی کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور اسے ‘واضح دشمنی’ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے عقائد کی توہین قرار دیا ہے۔ طالبان کا موقف ہے کہ، ان کی پالیسی افغان ثقافت اور اسلامی اصولوں کے مطابق ہے، اور وہ خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔

ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘ہیومن رائٹس واچ’ نے طالبان رہنماؤں کے خلاف جاری وارنٹ گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے۔ تنظیم نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ، وہ طالبان کی دیگر خلاف ورزیوں کے متاثرین، دولت اسلامیہ خراسان، سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں اور امریکی فورسز کی مبینہ زیادتیوں کے متاثرین کو بھی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، افغانستان میں اگر دیرپا امن قائم کرنا ہے تو ضروری ہے کہ، ہر مظلوم کو مساوی سطح پر انصاف تک رسائی حاصل ہو، اور ہر فریق کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت یا ملک سے ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں