مصنوعی ذہانت کے خطرات روکنے کے لیے اینتھروپک کی امریکی حکومت کو طاقتور اے آئی ماڈلز پر پابندی کا اختیار دینے کی تجویز

مصنوعی ذہانت کے شعبے کی معروف امریکی کمپنی اینتھروپک نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات پر قابو پانے کے لیے امریکی قانون سازوں کو ایک نئے وفاقی قانون کا مسودہ پیش کیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت حکومت کو ایسے طاقتور اے آئی ماڈلز کا اجرا یا استعمال روکنے کا اختیار دیا جا سکے گا جو انسانی جانوں یا بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہوں۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ کلاوڈ بنانے والی کمپنی اینتھروپک نے جمعے کو تصدیق کی کہ وہ امریکی کانگریس کے ارکان کے ساتھ مجوزہ قانون کا مسودہ شیئر کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع وفاقی قانون کی عدم موجودگی کو دور کرنا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے پولیٹیکو نے سب سے پہلے اس مسودے کی تفصیلات شائع کیں۔ تجویز کے مطابق اگر کسی طاقتور اے آئی ماڈل کے استعمال سے 50 سے زائد افراد کی موت یا شدید زخمی ہونے، یا ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالی نقصان کا فوری خطرہ ہو تو وفاقی حکومت عدالتی منظوری حاصل کرنے کے بعد اس ماڈل کے اجرا یا استعمال کو روک سکے گی۔

اینتھروپک کے ترجمان نے بتایا کہ مجوزہ قانون کا مقصد وفاقی حکومت کو انتہائی طاقتور اور ممکنہ طور پر خطرناک اے آئی ماڈلز کی تعیناتی روکنے کے لیے قانونی اختیارات فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت جدید ترین مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے ماڈلز کی حفاظتی جانچ، نتائج کی عوامی سطح پر وضاحت، آزاد ماہرین سے جائزے اور مؤثر سکیورٹی نظام برقرار رکھنے کا پابند بنایا جائے گا۔

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ موجودہ حکومتی پالیسی زیادہ تر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رضاکارانہ حفاظتی وعدوں اور صدارتی احکامات پر مبنی ہے۔ تاہم سیاسی اختلافات اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی لابنگ کے باعث امریکی کانگریس اب تک مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے کوئی جامع وفاقی قانون منظور نہیں کر سکی۔

مصنوعی ذہانت کے حفاظتی مسائل پر بحث ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئی ہے جب خودکار اے آئی ایجنٹس سے متعلق کئی سکیورٹی واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ ایسے سافٹ ویئر نظام ہوتے ہیں جو مسلسل انسانی نگرانی کے بغیر مختلف کام انجام دے سکتے ہیں۔ بعض حالیہ واقعات میں ایسے نظام اپنے تیار کرنے والوں کے مقرر کردہ حدود سے باہر کام کرتے پائے گئے، جس سے ان کی نگرانی اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں۔

اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے گزشتہ ماہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آئندہ چھ سے بارہ ماہ کے دوران خودکار اے آئی ایجنٹس کے گروہ انٹرنیٹ کے بڑے حصوں پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مصنوعی ذہانت کی ترقی سست کرنے کے مطالبات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

مجوزہ وفاقی قانون میں بعض ریاستی قوانین پر وفاقی قانون کو فوقیت دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جن میں کیلیفورنیا میں نافذ مصنوعی ذہانت سے متعلق بعض قواعد شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل اینتھروپک نے جون میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر مؤثر وفاقی قانون موجود نہ ہو تو ریاستوں کو مصنوعی ذہانت سے متعلق اپنے قوانین بنانے کا مکمل اختیار حاصل رہنا چاہیے۔

قانون اور مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیقی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار لا اینڈ اے آئی کے چارلی بلک نے اینتھروپک کی تجویز کو مجموعی طور پر معقول قرار دیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ تجویز رواں سال امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کیے گئے متبادل فرنٹیئر ایکٹ کے مقابلے میں نسبتاً کم سخت ہے۔

مجوزہ قانون فی الحال ابتدائی مسودے کی صورت میں امریکی قانون سازوں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی منظوری یا نفاذ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم اس اقدام نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس کی قانونی نگرانی کے درمیان توازن قائم کرنے کی بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

اس مجوزہ قانون کے تحت حکومتی مداخلت کا اختیار مخصوص سنگین خطرات تک محدود ہوگا، جن میں حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری، سائبر حملے یا کسی اے آئی نظام کا اپنے تیار کنندگان کے کنٹرول سے باہر نکل جانا شامل ہے۔ مسودے کے مطابق آزاد ماہرین خطرے کی نشاندہی کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر امریکی محکمہ تجارت کو اطلاع دینے کے پابند ہوں گے۔ اس کے بعد محکمہ تجارت متعلقہ ماڈل کا اجرا یا استعمال روکنے کے لیے وفاقی عدالت سے رجوع کر سکے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں