ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ترک دنیا کے ریاستی بیلے اسکولوں کا دوسرا فیسٹیول بھرپور جوش و خروش سے جاری ہے۔ اس ثقافتی فیسٹیول کا مقصد ترک اقوام کے مشترکہ ورثے کو محفوظ رکھنا اور اسے نئی نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔
فیسٹیول کے تحت ایک اہم کانفرنس بھی منعقد ہوئی، جس میں ترکیہ، آذربائیجان، ازبکستان، قازقستان اور کرغزستان کے فنکاروں اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تنظیم ترک ثقافت (TÜRKSOY) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل صائت یوسف نے کہا کہ رقص اور کوریوگرافی جیسے فنونِ لطیفہ میں اشتراک نہ صرف فنکارانہ اظہار کو فروغ دیتا ہے بلکہ مشترکہ تہذیبی راہوں کو بھی ہموار کرتا ہے۔
تقریب میں ازبکستان کی اسٹیٹ اکیڈمی آف کوریوگرافی کے ریکٹر، پروفیسر شوخرات تخطاسیموف بھی شریک ہوئے۔ فیسٹیول کے دوران ترک ریاستوں کے فن و ثقافت کے نمائندوں نے اپنے اداروں کے کاموں پر روشنی ڈالی اور مستقبل کے مشترکہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اس فیسٹیول کا ایک اور دلکش پہلو “عصرِ حاضر اور روایتی رقص کی شب” تھی، جس میں ترکیہ، آذربائیجان، ازبکستان، قازقستان اور کرغزستان کے معروف بیلے و کوریوگرافی اسکولوں کے ہونہار طلبہ نے حاجی تپے یونیورسٹی کے انقرہ اسٹیٹ کنزرویٹری کے اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
رقص نگاروں نے روایتی رقص کی دلکش جہتوں کو جدید اسلوب کے ساتھ اس انداز میں پیش کیا کہ ہر پرفارمنس تہذیبی ہم آہنگی اور فنی جدت کا شاہکار محسوس ہوئی۔