پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ، علی امین گنڈاپور نے انڈین حکومت کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) میں ان کے بیان کو پاکستان کے خلاف بطور ثبوت پیش کیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ، انڈیا نے ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے، تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔
اپنے ردعمل میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ، انڈیا نہ صرف آج، بلکہ ہمیشہ سے پاکستان اور پورے خطے میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، وہ اب FATF کو باقاعدہ ایک خط لکھنے جا رہے ہیں، جس کے بعد خود وہاں جا کر وضاحت سے انڈیا کی کارستانیوں کو بے نقاب کریں گے، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں کیے گئے دہشتگردانہ کارروائیوں کو.
خیال رہے کہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے 25 جولائی کو تحریکِ انصاف کے فیس بک پیج پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ، پولیس نے ‘گڈ طالبان’ اور ‘بیڈ طالبان’ کے خلاف کارروائی کی، لیکن بعد میں ان افراد کو دوبارہ واپس لایا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ، جب یہ افراد دوبارہ گرفتار کیے گئے تو آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے پولیس سے ان کو چھڑوایا، یہ کہہ کر کہ، وہ ان کے لوگ ہیں اور انہیں استعمال کیا جا رہا ہے۔
اپنے اسی بیان میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ، اگر واقعی ان عناصر کی ضرورت ہے تو انہیں فوج میں باقاعدہ بھرتی کر لیا جائے اور انہیں کشمیر یا کسی اور محاذ پر استعمال کیا جائے، لیکن شہری علاقوں میں ان کی آزادانہ موجودگی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ،ایسے اقدامات سے عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہو رہا ہے۔
اب اپنی وضاحت میں علی امین گنڈاپور نے کہا ہےکہ، افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے کسی حقیقی سفارتی یا تجارتی مقصد کے بجائے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔