مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی کرسر، جس کے شریک بانی پاکستانی نژاد صالح آصف ہیں، نے امریکی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ 60 ارب ڈالر تک کے ممکنہ معاہدے کو یقینی بنا لیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، کرسر اُن نئی کمپنیوں میں شامل ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوڈ لکھنے کے عمل کو خودکار بنا کر سافٹ ویئر ڈویلپرز کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں، اور اس شعبے میں ابتدائی کامیابی بھی حاصل کر چکی ہیں۔
اسپیس ایکس نے ایک بیان میں کہا کہ کرسر نے کمپنی کو یہ حق دیا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر تک اسے 60 ارب ڈالر میں خرید سکے، جبکہ اگر یہ خریداری نہ ہو سکی تو اسپیس ایکس مشترکہ کام کے بدلے دس ارب ڈالر ادا کرے گی۔
کمپنی کے مطابق، ‘کرسر کی جدید مصنوعات اور ماہر سافٹ ویئر انجینئرز تک رسائی کو اسپیس ایکس کے جدید تربیتی سپر کمپیوٹر کے ساتھ ملا کر دنیا کے سب سے مفید ماڈلز تیار کیے جا سکیں گے۔’
کراچی سے تعلق رکھنے والے صالح آصف نے نکسر کالج سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے 2016 سے 2018 تک بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔
وہیں انہوں نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر اینی اسفیئر نامی کمپنی قائم کی، جو کرسر ٹول تیار کرتی ہے۔ فوربس کے مطابق، کمپنی کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی عمر سیف نے صالح آصف کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک مثالی کردار ہیں۔ ان کے بقول، ‘ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والا نوجوان جس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، ایک مؤثر کمپنی بنائی اور کوڈنگ کے طریقہ کار کو بدل کر رکھ دیا۔’
فوربس کے مطابق، کرسر کو دنیا بھر میں 50 ہزار سے زائد اداروں میں لاکھوں سافٹ ویئر ڈویلپرز استعمال کر رہے ہیں، جن میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی شامل ہیں، جبکہ 9نومبر 2025 میں کمپنی کی مالیت29 ارب 3 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔