گورنر راج کے بعد؟

گورنر راج لگ گیا۔ دو باتیں بنیادی اہمیت کی ہیں جو سمجھ لی جانی چاہییں۔

پہلی بات یہ ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کوئی ایسی برائی نہیں ہے کہ اس پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ حالات اگر ایسے ہو جائیں تو ایمرجنسی اور گورنر راج بالکل درست اور آئینی اقدامات ہیں، اور اسی صوبے میں سب سے پہلے خود قائداعظم نے فتنہ گری کو روکنے کے لیے گورنر راج نافذ کیا تھا۔ چودہ اگست کو پاکستان بنا تھا، بائیس اگست کو گورنر راج نافذ ہو گیا تھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ گورنر راج بڑی ہی نامبارک چیز ہے، درست نہیں ہے۔ پاکستان کا پہلا گورنر راج بھی اسی صوبے میں لگا تھا۔ ایسی ہی فتنہ گری کے خلاف لگا تھا اور خود قائداعظم نے لگایا تھا۔

دوسری سمجھنے کی بات یہ ہے کہ گورنر راج کے لیے جو حالات و واقعات ضروری سمجھے جاتے ہیں، ہم بالکل انہی حالات و واقعات کا سامنا کر رہے تھے، اور اس کے علاوہ اب شاید اور کوئی راستہ نہیں بچ گیا تھا۔

یہ دن اگر دیکھنے پڑے ہیں تو یہ پاکستان تحریک انصاف کے کھلنڈرے پن، اس کے اشتعال انگیز رویے، اس کی غیر سنجیدگی، غیر ذمہ داری اور اس کی مسلسل حماقتوں کی وجہ سے دیکھنے پڑ رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف بدقسمتی سے کبھی بھی ایک سیاسی جماعت کے طور پر نارمل رویہ اختیار نہیں کر سکی۔ پاکستان تحریک انصاف نے جمہوریت کو اکثریت کی آمریت، فاشزم اور کلٹ کا روپ دے دیا تھا۔
سیاسی جماعتیں بند گلی سے راستہ نکالتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف بند گلی میں گھس گئی تھی۔
سیاست دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کا نام ہوتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے سوا سب کے وجود کی نفی کی۔ ان کا خیال تھا کہ یہی معیارِ حق ہیں۔ باقی سب راجہ داہر ہیں.

دنیا جہان کا چور اچکا ان کی پارٹی میں آ جائے تو وہ نیک، پاک، صاف اور اللہ کا ولی کہلائے گا۔ البتہ کوئی شریف آدمی بھی ان کی صف کے علاوہ اگر کسی صف میں ہو گا تو وہ چور اچکا، بدمعاش کہلائے گا۔

سیاست بقائے باہمی کا نام ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سب کو روند کر اپنا فاشزم قائم کرنے کی کوشش کی۔
عدلیہ میں بھی فیلڈنگ سیٹ کی گئی اور باقی اداروں سے بھی یہی مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کے تابع فرمان اور ان کے خدمت گزار بن کر رہو۔

یعنی کسی بھی ایسے فرد یا ادارے کو امان نہیں تھی، نہ ہے، جو عمران خان کا سہولت کار یا ان کا پرستار بن کر وقت نہ گزارے۔ خان صاحب کا فرمان تھا کہ غیر جانبدار تو جانور ہوتا ہے۔ ملک میں رہنے کے لیے گویا ضروری تھا کہ عمران خان کے ٹائیگر بن کر رہو، اس کے علاوہ کوئی گنجائش نہیں تھی۔

پاکستان تحریک انصاف نے ریاست کے ہر کمزور پہلو کو ایکسپلائٹ کر کے ریاست کا بازو مروڑنے کی کوشش کی۔ معیشت کا مسئلہ آیا تو کبھی اوورسیز پاکستانیوں کو انہوں نے خط لکھے کہ پاکستان پیسے نہ بھیجو، کبھی آئی ایم ایف سے کہا کہ پاکستان کے ساتھ معاملہ نہ کرو۔ کوئی معزز مہمان پاکستان آنے لگا تو یہ سڑکوں پر بیٹھ گئے اور انہوں نے اس کے دورے کو خراب کیا۔ کوئی اہم نوعیت کی تقرری ہونے لگی تو یہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر سڑکوں پر آ کر بیٹھ گئے، نظامِ زندگی کو مفلوج کیا اور اپنی بات منوانے کی کوشش کی۔

عدلیہ میں انہوں نے فیلڈنگ سیٹ کی، اور اس فیلڈ سیٹنگ میں اگر کوئی ایسا جج انہیں نظر آ گیا جس سے یہ مطمئن نہیں تھے تو اس کے خلاف انہوں نے ریفرنس بھیج دیا تاکہ اسے راستے سے ہٹایا جائے۔

ملک دہشت گردی میں الجھا تو انہوں نے ریاست ہی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔

تحریک انصاف کا مسئلہ ایسا نہیں تھا کہ جو سلجھ نہ سکتا۔ عدم اعتماد ہی آئی تھی، پہلے بھی آتی رہی ہے، بعد میں بھی آتی رہیں گی۔ یہاں تو لوگوں کو عدم اعتماد جیسے تکلف کے بغیر نکالا جاتا رہا اور عمران خان صاحب اپنے اور دوسروں کے منہ میں لڈو ٹھونستے رہے۔ اپنی باری عدم اعتماد آئی تو اسے قیامت بنا لیا گیا۔ اس سوچ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیوں بنا لیا گیا؟

اصل میں ان کا مطالبہ یہ تھا کہ جیسے ہمیں گود میں لے کر اقتدار میں بٹھایا گیا ہے، جیسے ہمیں گود میں لے کر قانون سازیاں کروائی گئی ہیں، ایسے ہی، بھلے ہم سے تاحیات ایکسٹینشن لے لی جائے، لیکن تاحیات ہمارے اقتدار کی سہولت کاری کی جائے۔

یہ جب حکومت میں بھی تھے اور اہم قانون سازیوں کے مراحل بھی آئے تو انہوں نے کسی سیاسی حلیف یا حریف سے بات تک نہیں کی۔ یہ عثمانی شہنشاہوں کی طرح بنی گالہ میں لاتعلق بیٹھے رہے اور ان کے کام ہوتے رہے۔

ان کا اب خیال یہ تھا کہ اب بھی ہماری انگلی پکڑ کر اور ہمیں گود میں بٹھا کر ہمارے حصے کی رکاوٹیں ادارے دور کریں۔ جب ایسا نہیں ہوا تو یہ بھڑک اٹھے۔

ان کا رویہ ہی غیر سیاسی تھا، ان کا بیانیہ بھی غیر سیاسی تھا۔ لانگ مارچ کے لیے بھی نکلے تو انہوں نے اپنے کسی سیاسی حریف کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کی۔ مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی یا ایسی دوسری جماعتوں سے رابطے اور معاملات کرنے کی بجائے انہوں نے قومی اسمبلی میں قوم پرست کو قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب دے دیا اور سینیٹ میں ایک خاص مکتبِ فکر کے آدمی کو یہ منصب دے دیا۔ وہ دونوں قابلِ احترام شخصیات ہیں اور یقیناً وہ اس منصب کے اہل بھی ہوں گی، لیکن بات یہ ہے کہ جب آپ قومی سیاست کرتے ہیں تو پھر قومی سیاست کا مزاج اور اس کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔

میرے جیسے خیرخواہ بار بار کہہ رہے تھے کہ تحریک انصاف اندھی کھائی کی جانب بڑھ رہی ہے، لیکن انہوں نے جوشِ جنوں میں کسی بات کی پروا نہیں کی۔ انہوں نے سمجھا کہ ہم ریاست میں افراتفری پیدا کر کے، ریاست کو یرغمال بنا کر اسے ڈکٹیٹ کر لیں گے اور اسے بلیک میل کر لیں گے۔

اس بار، لیکن، آگے سے یہ طے ہو چکا تھا کہ اب اس بلیک میلنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے دوسرے 9مئی کی گنجائش نہیں تھی اور ریاست طے کر چکی تھی کہ ریاست کے شہری ہوتے ہیں اس کا داماد کوئی نہیں ہوتا.

اب ایمرجنسی اور گورنر راج تو لگ گیا۔ اب اگر مقبولیت کا اتنا ہی زعم ہے تو سومنات فتح کرنے کے لیے آپ قافلے لے آئیں، کے پی سے بھی لے آئیں، پنجاب سے بھی لے آئیں۔ اب آپ اس تاثر کی بھی نفی کر لیں کہ آپ اقتدار کی چھاؤں میں احتجاج کرنے والے رستم نہیں ہیں بلکہ اقتدار کے بغیر بھی احتجاج کر سکتے ہیں۔

اب جو چاؤ تھے آپ کے، وہ پورے کر لیں، جو لشکر آپ نے لانے تھے، وہ لے آئیں، جو چن چڑھانے تھے، وہ چڑھا لیں۔

اور اس کے بعد جب بادلوں اور قوسِ قزح سے اتر کر آپ زمین پر آ جائیں اور آپ کے قدم مٹی پر لگ جائیں، آپ اپنے علاوہ باقیوں کو بھی انسان سمجھنا شروع کر دیں تو پھر شاید سیاست کے اس قومی دھارے میں آپ بھی آ جائیں۔

ورنہ آپ کی حماقتوں نے آپ کو اس گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں کوئی روزن نہیں ہے، کوئی کھڑکی نہیں۔

اے محبت، تیرے انجام پہ رونا آیا

اپنا تبصرہ لکھیں