اس-رائیلی وزارتِ خارجہ نے برطانوی گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی کے اس-رائیل میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانوی گرین پارٹی نے اپنی سالانہ کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی، جس میں صیہونیت کو ’نسل پرست تحریک‘ قرار دیا گیا ہے۔
پارٹی کے بیشتر ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، تاہم کئی سینئر ارکان نے اس کی مخالفت بھی کی۔ قرارداد کی منظوری کے بعد برطانیہ میں یہودی تنظیموں اور گرین پارٹی کے بعض ارکان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
برٹش جیوش ریپریزنٹیٹو کونسل اور جیوش لیڈرشپ کونسل نے مشترکہ بیان میں قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران برطانوی یہودیوں کو عبادت گاہوں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر حملوں کا سامنا رہا ہے۔
دونوں تنظیموں کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں یہودیوں اور برطانوی یہودی اداروں کو نسل پرست قرار دینے سے ملک میں یہود دشمن نفرت کو مزید ہوا مل سکتی ہے۔
دوسری جانب گرین پارٹی کے یہودی ارکان کے سربراہ نے بھی قرارداد پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارٹی میں اپنی رکنیت پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔
گرین پارٹی کی قرارداد اور اس پر سامنے آنے والے ردعمل کے بعد اس-رائیلی وزارتِ خارجہ نے پارٹی رہنما زیک پولانسکی کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔